فارما سیکٹر کی برآمدات 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے، مشیر تجارت

244

اسلام آباد: مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ حکومت ادویات کے شعبے کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ادویات کی برآمدات  5 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررزایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) کے زیرِ اہتمام پانچویں فارما سمِٹ سے خطاب کرتے ہوئے مشیر تجارت نے کہا کہ حکومت ادویات کی برآمدات کے حجم میں اضافے کے لیے کاروبار میں آسانی، سرمایہ کاری میں اضافے اور ڈیوٹی میں چھوٹ دینے پر خاص توجہ دے رہی ہے۔

رزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور اس کا بہترین حل برآمدات میں اضافہ کرنا ہے اسی لیے پاکستان نے ٹیکسٹائل برآمدات کے علاوہ ادویات کی برآمدات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مشکلات کا شکار یا  بے حد مراعات یافتہ؟ پاکستانی فارما انڈسٹری کا پر اسرار کیس

یہ بھی پڑھیں:فارماسیوٹیکل بزنس سے جڑے خاندان کی کہانی، ڈی واٹسن فارمیسی اپنی بقا کیسے ممکن بنا رہی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:بھارت سے ادویات کی تجارت پر پابندی ختم

انہوں نے کہا کہ ادویات کا شعبہ ملکی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے اور حکومت کی جانب سے فارما سیکٹر کی ترقی کے لیے اصلاحات پر کام جاری ہے۔

انہوں نے فارما کمپنیوں سے کہا کہ وہ افریقی ممالک کی فارما مارکیٹ میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کی کوشش کریں کیونکہ برِاعظم افریقہ کی آبادی 1.3 ارب کے قریب ہے جبکہ اس خطے کا جی ڈی پی لگ بھگ 2.7 کھرب ڈالر ہے، اس لیے پاکستانی حکومت آئندہ 5 سالوں میں اس خطے کے ساتھ تجارت کو دُگنا کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میڈیکل پروڈکٹس اور ادویات کی پیداوار و برآمدات کے لیے ‘ادویات کی برآمدات کی ترقی و ترویج کی کمیٹی’ (pharmaceutical export promotion committee) قائم کر دی ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم  کے مشیر برائے نیشنل ہیلتھ ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت نے قومی دوا پالیسی (National Medicine Policy) متعارف کرانے کے لیے تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں، پالیسی کا اعلان آئندہ دو ہفتوں میں کیا جائے گا۔

چئیرمین پی پی ایم اے میاں ذکاء الرحمان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان  بہ نسبت تمام مسلم ممالک کے مابین مضبوط فارما انڈسٹری رکھتا ہے اور 98 فیصد ملک کی ضروریات مقامی سطح پر پوری کی جارہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here