کرنٹ اکائونٹ خسارے میں نمایاں 36 فی صد کمی

158

کراچی: جنوری 2020 میں کرنٹ اکائونٹ خسارہ 555 ملین ڈالر ہو گیا ہے جو جنوری 2019 میں 865 ملین ڈالر تھا، یوں سالانہ بنیادوں پر کرنٹ اکائونٹ خسارے میں نمایاں طور پر 36 فی صد کمی آئی ہے۔

تاہم، اگر ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو کرنٹ اکائونٹ خسارے میں دسمبر 2019 کی نسبت 77 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ماہانہ بنیادوں پر اس گراوٹ کی وجہ سالانہ بنیادوں پر ایکسپورٹس  کے حجم میں 10 فی صد اور امپورٹس کے حجم میں 11 فی صد کمی آنا ہو سکتی ہے۔

کے اے ایس بی سکیورٹیز کے منیجنگ ڈائریکٹر ارسلان سومرو کہتے ہیں، ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ہو، مال بردار گاڑیوں پر مخصوص وزن لادے جانے کے قانون پر عملدرآمد ہو، ایکسپورٹرز کے لیے پاور ٹیرف میں اضافہ یا عالمی سطح پرعمومی سست روی، ان تمام وجوہ کے باوجود اس کمی کی امید نہیں تھی۔

مزید پڑھیں: کراچی: وزیراعظم سے تجارتی وفد کی ملاقات، کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنے پر تعریف

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، کرنٹ اکائونٹ خسارے کی شرح مالی سال 2020 کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ شرح سے اب بھی ہم آہنگ ہے جسے آسانی کے ساتھ حاصل کرلینا چاہئے۔ مالیاتی آسانی کے لیے برآمدات میں اضافہ ناگزیر ہے۔

اس صورتِ حال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت کرنسی کی قدر میں کمی کے لیے تیار نہیں ہے کیوں کہ امپورٹس کا حجم کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے جس کے باعث اب اس میں مزید کمی کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

جنوری 2020 کے دوران ترسیلات زر میں 9 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ موڈیز نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ہم ترسیلاتِ زر میں مزید اضافے کی امید رکھتے ہیں، اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عرصہ کے دوران ترقی یافتہ منڈیاں سست روی کا شکار ہوئی ہیں۔ تاہم، ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی اور پاکستانی کی ترسیلاتِ زر اور ڈیجیٹائزیشن پر توجہ کے باعث ترسیلاتِ زر ملک بھیجے کے اخراجات میں کمی آئی ہے۔

مزید پڑھیں: جولائی میں کرنٹ اکائونٹ خسارے میں 73 فیصد کی بڑی کمی، تجارتی خسارہ بھی نیچے آیا

  جی ڈی پی کے تناسب کے تناظر میں دیکھا جائے تو کرنٹ اکائونٹ خسارہ جنوری 2019 میں منفی تین اعشاریہ سات فی صد تھا جو جنوری 2020 میں کم ہو کر دو اعشاریہ چار فی صد ہو گیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here