’پی ایس ایل کی وجہ سے مقامی تاجروں کو روزانہ 23 ارب روپے کا نقصان ہوگا‘

کرکٹ کی بحالی پاکستان کیلئے نیگ شگون سہی لیکن تجارت و معیشت بھی اتنی ہی اہم ہے، حکومت سٹیک ہولڈرز کیساتھ بیٹھ کر بہتر حکمت عملی بنائے، قذافی سٹیڈیم میں فائیو سٹار ہوٹل تعمیر کرنے میں مدد کرسکتے ہیں: صدر لاہور چیمبر

162

لاہور: پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کا میلہ سجنے کو تیار ہے تاہم لاہور کے تاجر اس سے کچھ زیادہ خوش نظر نہیں آتے ، وہ کہتے ہیں کہ پی ایس ایل کی ٹیموں کی نقل و حرکت کے دوران سخت سکیورٹی کی وجہ سے سڑکوں اور مارکیٹوں کی بندش کی وجہ سے کاروباری طبقے کو کم از کم 23 ارب روپے روزانہ کا نقصان ہو گا۔

صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عرفان اقبال شیخ نے نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد اور سابق صدور بشیر اے بخش اور سہیل لاشاری کیساتھ پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا کہ ہم کرکٹ کے خلاف نہیں ہیں کیونکہ اس سے پاکستان کا تشخص دنیا کے سامنے بہتر کرنے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیموں کی سکیورٹی کیلئے لبرٹی مارکیٹ اور قرب و جوار کی مارکیٹیں بند کرنے سے صرف ایک دن میں 23 ارب روپے کا نقصان ہوگا، اس حوالے سے حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں اور طویل المدتی حکمت عملی اختیار کرنے کی  تجویز دے چکے ہیں جس سے کرکٹ کیساتھ ساتھ کاروباری طبقے کو بھی سہولت  ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور چیمبر نے کورونا وائرس کے باعث چین کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں معطل کر دیں

یہ بھی پڑھیں:آئی ایم ایف کی پالیسیاں پاکستان کے لیے معاشی تباہی کا باعث: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا انتباہ

لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ کرکٹ کی بحالی پاکستان کیلئے نیگ شگون ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان محفوظ اور پرامن ملک ہے۔کرکٹ سے ملک کا تشخص دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں مدد ضرور ملے گی تاہم تجارت اور معیشت بھی اتنی ہی اہم  ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر ایسی حکمت عملی مرتب کرے جس سے کھیلوں کے ساتھ کاروبار اور معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں جب لاہور میں کرکٹ میچز ہوئے تو لبرٹی مارکیٹ سمیت ارد گرد کے علاقوں میں ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری مراکز بند کردئیے گئے تھے جس وجہ سے چھوٹے بڑے تاجروں اور دہاڑی دار طبقے کوخاصا نقصان اٹھانا پڑاتھا۔آئندہ ماہ قذافی سٹیڈیم میں پی ایس ایل کے کچھ میچز کھیلے جانے ہیں اور ایک بار پھر کاورباری برداری کو نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر لاہور چیمبر کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقہ پی ایس ایل میچز کی سکیورٹی کیلئے حکومت کیساتھ ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہے تاہم چاہتے ہیں اردگرد کی مارکیٹیں بند نہ کی جائیں کیونکہ مارکیٹیں بند کرنے سے یہی تاثر جائے گا کہ ابھی تک ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوئی۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ مہمان کرکٹ ٹیموں کو ٹھہرانے کیلئے قذافی سٹیڈیم کی حدود میں ہی جدید ترین ہوٹل تعمیر کیا جانا چاہیے ،ہم خود فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کرنے کی پیشکش کر چکے ہیں کیونکہ سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کا یہی واحد حل ہے۔

واضح رہے کہ پی ایس ایل کا افتتاحی میچ 20 فروری (جمعرات)کو شام سات بجے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا جس میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔

ٹورنامنٹ کا دوسرا میچ کراچی میں ہی کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان 21 فروری کو دن دو بجے شیڈول ہے۔

21 فروری کو ہی تیسرے میچ کے لیے میدان لاہور میں سجے گا جہاں قذافی سٹیڈیم میں لاہور قلندر اور ملتان سلطان کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔

 کراچی اور لاہور کے کرکٹ گراونڈز سجنے کے ساتھ ساتھ ٹورنامنٹ کا آٹھواں میچ ملتان شہر میں واقع ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جا ئے گا جہاں شام سات بجے مقامی ٹیم ملتان سلطانز اور پشاور زلمی کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلا جانے والا پہلا میچ 27 فروری کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان ہو گا۔

پاکستان سپر لیگ میں سب سے زیادہ میچ لاہور میں کھیلے جائیں گے جس میں 22 مارچ کو کھیلے جانے والے فائنل سمیت کل 14 میچ شامل ہیں۔

قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہی ٹورنامنٹ کے دو الیمنیٹر میچ 18 اور 20 مارچ کو کھیلے جائیں گے۔

نیشنل سٹیڈیم کراچی میں کل نو میچ کھیلے جائیں گے جن میں ایک کوالیفائر میچ بھی شامل ہے جو 17 مارچ کو ہو گا۔

ٹورنامنٹ میں آٹھ میچ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم جبکہ تین میچ ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جائیں گےـ

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here