سعودی کمپنی پنجاب میں پیکجنگ سیکٹر میں پانچ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کو تیار

260

لاہور: ایک سعودی کمپنی نے پنجاب میں پیکجنگ سیکٹر میں پانچ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

سرمایہ کاری کایہ منصوبہ پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ (پی بی آئی ٹی) اور کے ٹو ویلی (K-2 Valley)کے نمائندگان کی ایک ملاقات کے دوران زیر بحث آیا۔

انویسٹمنٹ بورڈکے حکام کے مطابق سعودی کمپنی نے اپنے آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت پنجاب میں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے خواہش کا اظہار کیا ہے اور بورڈ انکی ضروریات کے مطابق سرمایہ کاری کے مواقع کی تلاش میں مدد کر رہا ہے۔

حکام  نے کے ٹو ویلی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کمپنی سعودی عرب، بحرین اور ترکی میں متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور پنجاب میں بھی سرمایہ کاری کی خواہاں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غیر ملکی سرمایہ کار علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے پرجوش

یہ بھی پڑھیں:سات ماہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 66 فیصد اضافہ ہوا: سٹیٹ بینک

پنجاب انویسٹمنٹ بورڈ کے ڈائریکٹر برائے سہولیات سہیل سلیم نے آگاہ کیا کہ انکی دعوت پر کے ٹو ویلی کے نمائندگان نے سرمایہ کاری بورڈ کا دورہ کیا تھا اور سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبہ جات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کے ٹو ویلی پیکجنگ بزنس میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہش مند ہے اور اس حوالے سے سرمایہ کاری بورڈ نے اپنا پرپوزل بھی پیش کیا ہے، کوشش ہوگی کہ انہیں خصوصی اقتصادی زونز میں لیکر جائیں جہاں حکومت پاکستان ٹیکسوں میں کافی چھوٹ دے رہی ہے۔

سہیل سلیم کا کہنا تھا کہ کے ٹو ویلی ابھی تک تو پاکستان سے صرف جانوروں کی خوراک درآمد کر رہی تھی تاہم پنجاب میں اپنا کاروبار شروع کرنے کے بعد پیکجنگ میٹریل کی برآمد شروع کرے گی،پیکجنگ مینوفیکچرنگ کیلئے کمپنی پانچ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے MSN کے نام سے اپنا پروجیکٹ شروع کرنا چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ کاروباری آسانیوں کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں اضافے اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد چین، ترکی ، ملائیشیا سمیت کئی ممالک کے سرمایہ کارپاکستان میں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری میں گہری لے رہے ہیں۔

سٹیٹ بینک کی 18 جنوری کی رپورٹ کے مطابق  رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران پاکستان میں کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی) میں 66 فیصد اضافہ ہوا ہےاور سب سے زیادہ سرمایہ کاری ٹیلی کام اور توانائی کے شعبوں میں کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here