بھارت نے اچھا سلوک نہیں کیا،معلوم نہیں تجارتی معاہدہ ہوپائے یا نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

میں واقعتاََ چاہتا ہوں تجارتی معاہدہ ہو لیکن یہ معاہدہ ابھی نہیں ہوگا بلکہ آئندہ کسی وقت کیلئے چھوڑ رہا ہوں، امریکی صدر کی صحافیوں سے گفتگو

231

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکااور بھارت بڑاتجارتی معاہدہ کرنے کے حوالے سے کام ضرور کررہے ہیں تاہم بھارت نے اچھا سلوک نہیں کیا،معلوم نہیں تجارتی معاہدہ نومبر میں امریکی صدارتی الیکشن تک ہوپائے گا یا نہیں۔

ٹرمپ آئندہ ہفتے پہلی مرتبہ سرکاری دورے پر بھارت جائیں گے  جہاں وہ وزیر اعظم نریندر مودی کیساتھ دیگر معاملات پر مذکرات کے علاوہ ڈیری اور پولٹری مصنوعات کی امریکہ کو برآمد پر ٹیکسوں میں کمی لانے کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔

تاہم دونوں ملکوں کے مابین کسی قسم کا تجارتی معاہدہ  طے پانے کی توقع نہیں ہے ، شائد اسی لیے ٹرمپ کے تجارتی نمائندے رابرٹ لائتھیزر (Robert Lighthizer) نے دورہ بھارت منسوخ کردیا ہے۔

بدھ کو ریاست میری لینڈ میں اپنے دورہ بھارت سے متعلق صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ، ’’ ہم بھارت کیساتھ تجارتی معاہدہ کریں گے اورمیں واقعتاََ چاہتا ہوں کہ تجارتی معاہدہ ہو لیکن یہ معاہدہ ابھی نہیں ہوگا بلکہ آئندہ کسی وقت کیلئے چھوڑ رہا ہوں۔‘‘

وائٹ ہائوس کے مطابق امریکی صدر نے کہا ،’’ہندوستان کے ساتھ بڑا کاروباری سمجھوتہ تو ہو گا، ہم یہ ضرور کریں گے لیکن پتہ نہیں الیکشن سے پہلے یہ ہو پائے گا یا نہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: انڈیا برطانیہ اور فرانس کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی پانچویں بڑی معیشت بن گیا

یہ بھی پڑھیں:فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے آئندہ اجلاس میں امریکا پاکستان کی حمایت کرے گا : بھارتی اخبار

یہ بھی پڑھیں:نئی دہلی: بھارتی حکومت ایئر انڈیا کی فروخت کے لیے گاہکوں کی تلاش میں

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 24 فروری سے بھارت کا دو روزہ دورہ کریں گے ، اس دورے سے متعلق قیاس آرائیاں کی جارہیں تھیں کہ ٹرمپ اس دوران بھارت کے ساتھ کچھ بڑے تجارتی معاہدے کریں گے۔

تاہم ہندوستان کے ساتھ تجارتی و معاشی تعلقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا’ ’’ہندوستان نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ہے اسکے باوجود میں وزیر اعظم مودی کو بہت پسند کرتا ہوں۔‘‘

بھارت میں ٹرمپ کے استقبال کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں، انہیں احمد آباد کے ہوائی اڈہ سے لے کر سابرمتی آشرم تک ایک روڈشو کی صورت لے جایا جائے گا جسے ’انڈیا روڈ شو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ٹرمپ نے صحافیوں کو آگاہ کیا ،’’مودی نے مجھے بتایا ہے کہ ائیرپورٹ اور پروگرام کی جگہ کے درمیان 70 لاکھ لوگ استقبال کیلئے موجود ہوں گے۔‘‘

واضح رہے کہ امریکا چین کے بعد بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، 2018 کے اختتام پر دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 142.6 ارب ڈالر رہا، 2019ء میں ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیکسوں میں اضافے کے بعد دونوں ممالک میں تجارتی حجم 23.2 ارب ڈالر کم ہو گیا تھا۔

ٹرمپ کی جانب سے بھارت کیساتھ معاشی تعلقات پر عدم اطمینان کے حوالے سے بھارت کا کہنا ہے کہ وزیر صنعت و تجارت پیوش گوئل اور امریکی تجارتی نمائندے کے مابین بات چیت چل رہی ہے ،کچھ چیز وں پر ٹیکسوں کے معاملے پر دونوں ممالک میں اختلافات ہیں ، انہیں حل کرنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان کو اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہئے۔

2017ء میں اقتدار سنبھالنے سے لیکر ٹرمپ عالمی تجارت پر ٹیکسوں کے حوالے سے شہ سرخیوں میں رہے ہیں، انہوں نے چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر پابندیوں کے علاوہ چینی مصنوعات پر ٹیکسوں میں بھی200فیصد اضافہ کردیا ہے، اسی طرح بھارت کیساتھ بھی تجارتی تعلقات اس وقت متاثر ہوئے جب ٹرمپ نے 2018 میں بھارت کو ’ٹیرف کنگ‘ کا نام دیا۔

اس سے قبل بھارت کی جانب سے ڈیری و پولٹری مصنوعات سے لیکر ہارلے ڈیوڈسن کی موٹربائیکس  اورطبی آلات کی درآمد پر ٹیکسوں میں اضافے پر بھی ٹرمپ نے جوابی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا تھا اور بھارت کی جانب سے انٹرنیٹ سٹوریج کے نئے قوانین پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

19 فروری کو بھارتی کابینہ نے امریکا سے فوجی ہیلی کاپٹر خریدنے کے معاہدے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعدبھارت 2.6 ارب ڈالر کے عوض امریکی دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنی لوک ہیڈ مارٹن سے 24 فوجی ہیلی کاپٹر خریدے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here