جولائی کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر غلام عباس نبی سورج کی تپش سے بے خبر سستا رہا تھا کہ ہیجان انگیز چیخوں نے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ غلام عباس تیزی سے اس جانب بڑھا جہاں قدرتی آفت اس کا انتظار کر رہی تھی۔
آسمان سے کچھ تیزی سے زمین کی جانب اتر رہا تھا جس نے سورج کو بھی ڈھک دیا۔ شور و ہڑبونگ میں گھرا ہوا غلام عباس کچھ بھی کرنے کیلئے بے بس تھا۔ 46 سالہ غلام عباس عشروں سے اپنے 52 ایکڑ پر محیط کھیتوں کا انتظام سنبھالتا آ رہا ہے لیکن اس قسم کی آفت کیلئے وہ ذرا بھر بھی تیار نہیں تھا۔ اس اچانک افتاد نے اسے غالباََ سب سے زیادہ خوفزدہ کیا۔
یہ بات زیادہ پرانی نہیں ہے جب غلام عباس اپنے مزارعوں کو فصل کیلئے کھاد فراہم کر رہا تھا اور پُرامید تھا کہ کچھ مہینوں بعد یہ فصل پک کر تیار ہو جائے گی۔
جب چیخ و افتاد کا سلسلہ تھما تو غلام عباس کی نیند کوسوں دور جا چکی تھی۔ سندھ کے علاقے ٹھری میرواہ میں غلام عباس کے کھیتوں میں کام کرنے والی لڑکی عابدہ علی ویسے تو اپنے کام پوری دلجمعی سے کرتی ہے۔ مگر آج وہ خوفزدہ ہو گئی۔
وہ بھاگتے ہوئے چلائی ’’اتنے سارے مکوڑوں کا حملہ، اتنے سارے مکوڑوں کا حملہ‘‘ مگر بے سود۔ کسی کو کچھ سوچنے سنبھلنے کا موقع نہیں ملا، اگر کچھ کیا جا سکتا تھا تو بس اتنا ہی کہ کسی محفوظ جگہ بیٹھ کر اپنے مہینوں کی محنت پر پانی پھرتا دیکھا جائے۔
غلام عباس نے ہمیں بتایا ’’جیسے ہی میں نے اپنے کمرے سے باہر قدم رکھا مجھے ٹڈیوں کا ایک سمندر دکھائی دیا۔ وہ پچھلی جانب واقع میرے باغیچے میں، کپاس کے کھیتوں میں، کھجور کے درختوں پر غرض ہر جگہ موجود تھیں‘‘۔ ’’انہوں نے کچھ نہیں چھوڑا‘‘ اور یہ کہتے ہوئے اس کی آواز خوف کی شدت سے مسلسل لڑکھڑا رہی تھی۔
اگلے چند دن ٹڈیوں کی حکمرانی رہی۔ کسان اکٹھے ہوئے اور اپنے تحفظ کیلئے پہلا اقدام جو ان کے ذہن میں آیا وہ ان ٹڈیوں کو جلا دینے کا تھا۔ انہوں نے کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ کھیتوں کی زرخیز زمین ان ٹڈیوں سے بھری ہوئی تھی جہاں وہ کھلے عام دعوت عام کے مزے لوٹتی رہیں۔ جب یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی تو جراثیم کُش ادویات تجویز کی گئیں۔ لیکن کسانوں میں سے بیشتر کو یہ خوف تھا کہ اس طرح ٹڈی کے ساتھ ساتھ ان کی زمین بھی تباہ ہو جائے گی۔
کوئی قابل عمل حل دستیاب نہ ہونے کے باعث پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا۔ اور اس امر کا صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے کہ ان بے سود کوششوں کے دوران کتنی تباہی مچ چکی ہوگی۔ آخر قسمت کو ٹھری میرواہ کے لوگوں پر ترس آ ہی گیا اور 15 روز کے بعد وہ ٹڈیاں خود ہی وہاں سے چلی گئیں۔ لیکن تب تک ارد گرد کے کھیت بھی تہس نہس ہو چکے تھے۔
’’ٹڈیاں وہاں سے صرف اس لئے چلی گئیں کیونکہ اب ان کے کھانے کو کچھ باقی نہیں رہا تھا۔ ہم بس بیٹھے اپنی محنت کو ضائع ہوتے دیکھتے رہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے کسی حکومتی ادارے یا ایجنسی نے نہ ہمیں کوئی تجویز دی اور نہ ہی ہم سے رابطہ کیا۔‘‘ غلام عباس نے ہمیں بتایا ’’اس نے مجھے معاشی طور پر تباہ کر دیا ہے۔‘‘
نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ
پچھلے کچھ مہینوں میں ایسے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ان ٹڈیوں نے فصلوں کو اپنی خوراک بنایا اور کھیتوں کو تباہ کر کے نئے مقام پر چلی گئیں۔ لیکن تہذیب کے ارتقاء سے اب تک یہ مسئلہ چلا آ رہا ہے۔
اس کا ذکر بائبل میں بھی ملتا ہے کیونکہ اس وقت کے کسان اور اس سے پہلے کے کسانوں کو بھی یہی مسئلہ درپیش تھا۔ مذہبی و ادبی کتب کی رو سے اسے تاریخ کے ایک سبق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور عبرانی بائبل میں اسے خدا کی جانب سے نازل عذاب سے مشابہہ قرار دیا گیا ہے۔
’’مصر کی جانب اپنا ہاتھ بڑھاؤ تاکہ مکوڑے زمین پر پھیل جائیں اور کھیتوں میں اگنے والی ہر چیز کو کھا جائیں‘‘ خدا نے موسیٰ کو حکم دیا۔ ’’انہوں نے پورے مصر کو تباہ کر دیا۔ مکوڑوں کا ایسا حملہ نہ اس سے پہلے ہوا تھا اور نہ اس آئندہ دوبارہ ہوگا۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں اس قسم کا ’’عذاب‘‘ کسی قہر سے کم نہیں۔ یہ جتنا خوفناک ہے اتنا ہی تباہ کن بھی ہے۔ گو اکثر اسے خام خیالی گردانتے ہیں لیکن اس سے نمٹنے کا حل موجود ہے۔ حالیہ رپورٹ کئے گئے متعدد واقعات، ماحولیاتی و حرارتی تغیرات کا تحقیقاتی مطالعہ اور ان حملوں کی شدت اور تعداد میں ہونے والا اضافہ اس تشویش کی علامت ہیں کہ پاکستان کو اس قدرتی آفت کیلئے تیار رہنا چاہیئے۔
غلام عباس بغیر رہنمائی کے اپنی فصلوں کو تباہ ہوتے دیکھتا رہا۔ لیکن یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اور آخرکار اب حکومت شاید اس مسئلے پر توجہ دیتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے رواں سال 31 جنوری سے ٹڈیوں کے حملوں کے پیش نظر نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ لیکن کیا یہ اقدام پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں فصلوں کے تحفظ کیلئے کافی ہوگا؟
ہمارا نیا فیچر: بائبل میں بیان کردہ عذاب یا موسمیاتی تغیر؟ پاکستان میں قحط کے بڑھتے خدشات کی خصوصی ویڈیو

باقی 3 صوبوں تک ٹڈیوں کی فوج پہنچنے سے قبل بلوچستان میں ان ٹڈیوں نے اپنا پہلا حملہ کیا جس کے عینی شاہد کوئٹہ میں مقیم صحافی شمس درانی کا کہنا ہے ’’اتنی دیر بعد ایمرجنسی کا نفاذ ناکافی اقدام ہے۔ یہ اقدام تو اس وقت کرنا چاہیئے تھا جب گزشتہ موسم گرما میں پہلی مرتبہ ایران سے ٹڈیاں بلوچستان میں داخل ہوئی تھیں۔‘‘
ان کے مطابق اس ٹڈی دَل نے بلوچستان میں پہلے سے موجود قحط میں اضافہ کر دیا لیکن وفاقی حکومت میں سے کسی نے بھی اس جانب توجہ نہیں دی۔ قابل دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبہ سندھ سے جب ٹڈی دَل کے حملوں کی ابتدائی رپورٹس موصول ہوئیں تب بھی اس مسئلے پر توجہ نہیں دی گئی اور پھر جب کراچی اور اس کے بعد اندرون سندھ میں اِن حملوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی تب یہ مسئلہ حکومتی نظر میں آیا۔
گو کہ شمس درانی اسے تاخیری اقدام قرار دیتے ہیں تاہم وزیراعظم عمران خان نے خود نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ اور اس بحران کے ممکنہ اثرات کی بھرپائی کیلئے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری دی ہے اور اس کیلئے 7.3 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے رقم مختص کرنے کا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں وزیر خوراک خسرو بختیار، مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل جنرل محمد افضل پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں کیا گیا۔
اس ملاقات کے نتیجے میں وزیراعظم نے ٖضلعی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دیں۔ قابل اہم بات یہ کہ اس کا اختیار این ڈی ایم اے کو دے دیا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کی گئی خبر کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے ’’کسانوں اور فصلوں کا تحفظ پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہیں۔‘‘ تمام اگر مگر اور بیوروکریسی کی روایات سے گزرتے ہوئے ان حشرات کے خلاف اعلان جنگ کا اعلان کر دیا گیا۔
یہ مسئلہ سب کیلئے نیا ہے۔ پاکستان ایک مرتبہ پہلے بھی 1993ء میں جب بینظیر بھٹو برسراقتدار تھیں ٹڈی دَل کے حملوں سے دوچار ہو چکا ہے۔ اگرچہ ٹڈیوں کے حالیہ حملوں کی شدت 1993ء میں ہونے والے حملے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے تاہم اُس وقت ہوائی جہاز سے اسپرے کیا گیا تھا جو کارگر ثابت ہوا تھا اور حکومت اب بھی یہی کرنے کا سوچ رہی ہوگی۔ لیکن یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انتظامیہ نے اس مسئلہ کا ادراک جلدی کر لیا تھا اور اس کے تدارک کے لئے زیادہ سنجیدہ نظر آتی تھی۔
عمران خان کی زیر صدارت اس ملاقات کے نتیجے میں فصلوں کو ٹڈیوں کے حملے سے بچانے کیلئے ہوائی جہاز سے اسپرے کرنے کی تجویز کو قابل غور قرار دیا گیا۔ اگرچہ یہ منصوبہ قابل عمل ہے لیکن شاید حکومت کے پاس اس کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ذرائع کا فقدان ہے۔ ایوان میں اظہار رائے کرتے ہوئے وزیر خوراک خسرو بختیار نے بتایا ان کی وزارت کے پاس کسی دور میں 20 ہوائی جہاز موجود تھے جبکہ اب صرف 3 جہاز ہی کارآمد ہیں اور یہ 3 جہاز 20 ہزار ایکڑ اراضی کو بھی مشکل سے پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
درحقیقت وزارت خوراک اپنے طور پر کچھ نہیں کر سکتی اور اگلے 18 ماہ تک اسے وفاقی، صوبائی اور ضلعی حکومتوں سمیت این ڈی ایم اے کے تعاون کی ضرورت پیش آئے گی۔
خسرو بختیار نے پارلیمنٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ’’ٹڈی دَل کے حملوں کی وجہ سے مزید تباہی اور نقصان سے بچنے کیلئے 7.3 ارب روپے کی خطیر رقم درکار ہے۔‘‘ ماحولیاتی تبدیلی ان ٹڈیوں کو اس سرزمین سے باہر دھکیلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا ’’1993ء میں جب اس طرح کا واقعہ پیش آیا تو خیبر پختونخوا میں اس کے اثرات نہیں پہنچے۔ لیکن اس دفعہ ڈیرہ اسماعیل خان تک ان ٹڈیوں نے اپنے نشانات چھوڑے ہیں۔‘‘
’’آخری اطلاعات کے مطابق یہ ٹڈی دَل سندھ اور بلوچستان سے چولستان ناڑا میں داخل ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے ٹڈیاں کچھ وقت کے بعد ایران چلی جاتی تھیں لیکن اس مرتبہ ان کا پاکستان میں قیام طویل ہو گیا ہے اور شاید اس کی وجہ موسم سرما کے دورانیہ میں اضافہ ہے۔‘‘
تباہی کا تخمینہ
ہم یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ حملہ تباہ کن تھا۔ لیکن کتنا تباہ کن؟ اگر اندازہ لگایا جائے تو یہ ٹڈیاں تعداد میں لگ بھگ 3 سے 5 کروڑ ہوں گی جبکہ ان کی افزائش نسل کا عمل بھی تیز ہے۔ افریقہ میں ٹڈیوں کا جھنڈ تقریبا 800 میل طویل تھا۔ یہ حشرات روزانہ کی بنیاد پر 150 کلومیٹر سفر کرتے ہیں اور ایک جھنڈ روزانہ کی بنیاد پر 200 ٹن خوراک کھا سکتا ہے۔ گزشتہ سال جون سے اب تک یہ ٹڈیاں تباہی مچاتی چاروں صوبوں میں پھیل چکی ہیں۔ اگر اس امر کو نظر انداز کیا گیا تو شاید یہ حملے آنے والے کچھ مہینوں یا سالوں میں تحفظِ خوراک سے متعلق مسائل کا شاخسانہ ثابت ہوں گے۔
اس سب میں اگر کوئی اچھی خبر ہے تو وہ یہ کہ ملک میں پیدا ہونے والی گندم ان صحرائی ٹڈیوں کے جھنڈ سے کسی نہ کسی طرح محفوظ رہ گئی ہے۔ فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر حسن نے میڈیا کو بتایا کہ ٹڈیوں کے حملے سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کیلئے حشرات کے ماہرین کی متعدد ٹیمیں پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھیجی گئی ہیں جنہوں نے اس امر کی نشاندہی کی گندم کی فصل کو خاطر خواہ نقصان نہیں پہنچا۔
ڈاکٹر حسن نے مزید بتایا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر نے ماہرین حشرات کی ٹیم کو ان ٹڈیوں کی ساخت و ارتقاء، ان کے حملہ کرنے کے مقامات، ان کے جُھنڈ کی ترتیب اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انہوں نے کہا ’’ماہرین حشرات کی ٹیم کو اس سنجیدہ مسئلے سے نمٹنے اور نقصان سے بچاؤ کیلئے کسانوں کی تربیت جیسے امور سرانجام دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔‘‘
لاہور سے تعلق رکھنے والے زرعی ماہر ڈاکٹر وقار نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ اس مسئلہ پر سنجیدگی ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ صحرا میں بسنے والی ٹڈیوں نے اب پاکستان میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا جیسے ہموار اور زرخیز علاقوں کا رُخ کر لیا ہے۔
ایسا کیوں ہوا اس بارے میں جاننا وزارت خوراک کے حکام کی نظر میں وقت کا ضیاع ہے اور اگر کوئی بیٹھ کر سوچے تو اس کا جواب ہمارے ارد گرد ہی موجود ہے اور وہ ہے ماحولیاتی تغیرات۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا ’’اگر درجہ حرارت میں میں مسلسل کمی برقرار رہے گی، خشک اور سرد موسم طویل رہے گا تو ٹڈیوں کے پورے ملک میں پھیلنے کے خدشات خطرناک حد تک بڑھ جائیں گے۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک ٹڈی چولستان کے ساتھ ساتھ پاک بھارت بارڈر کے علاقوں میں نئی نسل کی شکل میں اپنے نشانات بخوبی چھوڑ سکتی ہے۔‘‘
محکمہ کاشت کے ایک اور عہدیدار نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ سے جنگی بنیادوں پر نمٹنا اب لمحہ ضرورت بن گیا ہے ورنہ جب تک خشک موسم رہے گا اس سے نمٹنا مشکل ہوتا جائے گا اور تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
فصلوں کی انشورنس
اس سارے ہنگامے میں اگر کسی کا نقصان ہوا ہے تو وہ ہے ہمارا کاشتکار۔ تمام متاثرین جتنا اپنی بربادی پر ماتم کناں ہیں اتنا ہی حکومتی تیاریوں اور بعد میں پیش آنے والے حالات سے متعلق حکومتی تعاون پر شکوں کناں ہیں۔ اور کچھ کسان تو ان حملوں کے دوسرے راؤنڈ کے خدشات میں گھرے خوفزدہ بیٹھے ہیں۔ کچھ سیانے کسان ڈھول پیٹ کر حشرات کو بھگانے کی کوشش کر رہے ہیں اور کچھ غیر پیداواری چیزیں جلا کر دھوئیں سے انہیں بھگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صوبہ سندھ اور پنجاب کے متاثرہ کسانوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے کئے گئے انتظامات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
ملک بھر میں پھیلتے ہوئے ٹڈیوں کے حملوں کے پیش نظر کسان جراثیم کُش ادویات کی فراہمی کی اسکیم کے ساتھ ساتھ اپنی فصلوں کی انشورنس کیلئے حکومت سے رابطہ کر رہے ہیں۔
فصلوں کی انشورنس اسکیم 2018ء میں پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کروائی تھی تاکہ سیلاب، بارشوں یا کسی قدرتی آفت کے نتیجے میں خراب ہونے والی کپاس، چاول اور (2019ء میں شامل کی گئی) گندم کی بھرپائی کی جا سکے۔
لیکن فصلوں کی انشورنس اسکیم حشرات کے حملوں پر لاگو نہیں ہوتی جبکہ دوراندیش کسان حکومت سے اس کا مطالبہ ایک طویل عرصے سے کر رہے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے شہر لودھراں سے تعلق رکھنے والے کسان شہباز خان ساھو نے اپنی سرسوں کی فصل کو اپنی آنکھوں کے سامنے ٹڈی دَل کے ہاتھوں برباد ہوتے دیکھا ہے۔ شہباز خان نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ حکومت فصلوں کی انشورنس اسکیم میں توسیع کرے۔ اس نے کہا ’’اس مرتبہ اس آفت کے اثرات تیل کے بیج اور خاص طور پر سرسوں اگانے والے جنوبی پنجاب کے کسانوں کی بڑی تعداد بھگت رہی ہے۔‘‘ اب تک ان کے مطالبات کا حل سائنس میں چھپا ہے اور اس کے ساتھ حکومت یہ وعدہ بھی کرے کہ ان تک بھی ہوائی امداد پہنچائی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here