کورونا وائرس، چین سمیت ایشیائی معیشتوں پر دبائو بڑھنے ، معاشی نمو کم رہنے کا امکان: ریٹنگ ایجنسی موڈیز

چین کی معیشت شدید متاثر، اکثر کمپنیوں کو مالی بحران کا سامنا ،بڑے پیمانے پر کی نوکریاں ختم ہونے کا خطرہ

306

نیویارک، بیجنگ: عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے اپنی نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ تجارت، سیاحت اور مصنوعات کی سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے پہلے سے دبائو کا شکار ایشیا پیسفک کی معیشتوں پر مزید دبائو پڑے گا۔

منگل کو موڈیز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے نیا دبائو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایشیائی معشتیں 2019ء میں پورا سال سست روی کا شکاررہی ہیں۔

موڈیز کے سینئر وائس پریذیڈنٹ کرسٹیان ڈی گزمین نے کہا ہے کہ گوکہ چین میں معاشی سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں تاہم وائرس کی وجہ سے چین اور ہمسایہ ممالک کی معیشتوں  پر پڑنے والے اثرات مزید چند ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس: چین کی معیشت شدید متاثر، مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر، اشیائے خورونوش 20 فیصد مہنگی

انہوں نے کہا کہ 2020ء کیلئے چین کی شرح نمو 5.8 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی تھی تاہم اب اسے کم کرکے 5.2 فیصد کردیا گیاہےکیونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کی معیشت کم مدت کیلئے ہی سہی مگر بری طرح متاثر ہوئی ہےجبکہ دیگر ممالک بھی معاشی طور پر اس کے زیر اثر آئے ہیں۔

وائرس کی وجہ سے چین کی معیشت کی شدید جھٹکا لگاہے اور اکثر چھوٹی کمپنیوں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کے بعد وہ بغیر معاوضہ اپنے ملازمین کو فارغ کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس، پاکستان نے جانوروں اور پرندوں کی درآمد پر پابندی لگا دی

پیکنگ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق ایک ہزار میں سے 34 فیصد چھوٹی بڑی کمپنیوں نے کہا ہے کہ حالیہ مالی بحران کی وجہ سے وہ بمشکل ایک ماہ تک کام جاری رکھ سکتی ہیں۔

بیجنگ میں Zhongyuan Bank کے چیف اکانومسٹ وانگ جُن کہتے ہیں کہ وائرس کے بعد مالی بحران سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی نوکریاں ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

گزشتہ ہفتے چینی کابینہ نے نوکریوں کے خاتمے کو روکنے کیلئے مقامی حکومتوں کو ہدایات جاری کی تھیں کہ متاثرہ کمپنیوں کو بیروزگاری انشورنش یا اس جیسے دیگر فنڈز کی فراہمی سے استحکام دیا جائے۔

واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہ صوبے ہوبئی میں مزید 93 افراد زندگی کی بازی ہارگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1868 ہوگئی، ووہان میں کورونا کے علاج کیلئے کھولے جانے والے ہسپتال کے ڈائریکٹر بھی وائرس کا شکار بن گئے ہیں۔

چینی حکام کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مزید 1886 کیسز کی تصدیق ہوئی جن میں زیادہ تر کا تعلق ہوبئی سے ہے، نئے کیسز کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 72 ہزار 436 ہوگئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here