ماضی میں ملکی مفاد کیخلاف کیے گئے معاہدوں کے نتیجے میں بجلی مہنگی اور گردشی قرضہ بڑھا: وزیر اعظم عمران خان

بجلی چوری کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات سے 122 ارب روپے آمدنی ہوئی، گردشی قرضہ 38 ارب ماہانہ سے کم کرکے 12 ارب تک لایا جا چکا ،رواں سال کے آخر تک صفر کر دیا جائے گا، وزیر اعظم کو بریفنگ

136

اسلام آباد:  وزیرِ اعظم عمران خان نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے آئوٹ آف دی باکس حل اور تجاویز پر غور کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے عوام کی قوت برداشت کو مدنظر رکھے بغیر اور ملکی مفاد کو پش پشت رکھتے ہوئے مہنگے اور غیر منطقی معاہدے اور انتظامات کیے جس کا نتیجہ مہنگی بجلی اور گردشی قرضے کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی لانے اور گھریلو صارفین اور صنعتوں کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام خصوصاً کم آمدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور صنعتوں کا فروغ ہے تاکہ معیشت کا پہیہ چل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گردشی قرضہ 34 ارب روپے سے کم ہو کر 12 ارب روپے رہ گیا ، وزارت توانائی کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

اجلاس میں وزیرِ اعظم کی ہدایت پر بجلی اور گیس کی قیمتوں خصوصاً گھریلو صارفین اور صنعتوں کے لئے بجلی کی قیمتوں میں استحکام اور ممکنہ حد تک کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں اور بجلی اور گیس کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال اور درپیش مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا۔

معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر نے گیس کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے حوالے سے طویل المدتی پلان پر مبنی تجاویز پیش کیں۔

 وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے شعبے میں ماضی کی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے معاہدوں کی وجہ سے بجلی اور گیس کا بوجھ عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کوشش ہے کہ جہاں ایک طرف ان شعبوں میں انتظامی اصلاحات کی جائیں تاکہ چوری اور ضیاع کی مد میں پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے وہاں گھریلو صارفین اور صنعتوں کو مناسب قیمت پر بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے تاکہ عوام کو ریلیف میسر آئے اور صنعتی شعبے کو فروغ ملے۔

یہ بھی پڑھیں:غریبوں کی تکالیف پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، ریلیف دینے کیلئے ہر حد تک جائیں گے: وزیر اعظم  عمران خان

 وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے بجلی چوری کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کیے گئے جس کا نتیجہ 122 ارب روپے کی آمدنی کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ گردشی قرضوں میں ہونے والے 38 ارب کے ماہانہ اضافے کو کم کر کے 12 ارب روپے تک لایا جا چکا ہے جس کو اس سال کے آخر تک صفر کر دیا جائے گا۔

 وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں لگائے جانے والے بجلی کے کارخانوں کی قیمت بھی موجودہ حکومت کو ادا کرنا پڑ رہی ہے اور اس کا اضافی بوجھ بھی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here