لاہور میں ایل ٹی سی کی سستی بس سروس کیوں بند ہو گئی؟

فنڈز کی عدم فراہمی پر 1500 نئی بسیں نہیں سکے، موجودہ حکومت سروس بحال کرنا چاہتی ہے، ماحول دوست بسوں کے ماڈلزبتائے ہیں، تجویز منظوری کے مراحل میں ہے، چیف آپریٹنگ آفیسر ایل ٹی سی

631

لاہور: لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی (ایل ٹی سی) کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے کمپنی 1500 نئی بسیں نہیں خرید سکی۔

محکمہ ٹرانسپورٹ پنجاب میں ذرائع نے بتایا کہ 2009 میں قائم ہونے والی ٹرانسپورٹ کمپنی کا مقصد لاہور کے شہریوں کو سستی ،معیاری ،محفوظ  اور ماحول دوست سفری سہولتیں فراہم کرنا تھا ، 2017 میں کمپنی کی بسوں کی تعداد کم ہونے لگی اور 2019 تک بتدریج بسیں غائب ہوتی گئیں اور سروس بند کردی گئی جس کے بعد ان بسوں کا عملہ بیروزگار ہوگیا اور مسافر مشکلات کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار

یہ بھی پڑھیں:  کیا ائیرلفٹ موثر پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کر پائیگی؟

یہ بھی پڑھیں:کرائے بڑھانے سے لاہور اور راولپنڈی میٹرو بس کے مسافروں میں کمی

ایل ٹی سی کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او)ظفر قریشی نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا ،’’ابتداء میں کمپنی نے 300 بسیں خریدی تھیں جن مین 262 بسیں لاہور میں چلائی گئیں، 2014 میں پنجاب حکومت کو لاہور میں مزید 300 روٹس پر بسیں چلانے کی تجویز دی ، اس دوران کئی مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی پیسہ لگانے کو تیار تھے اور ان ہمیں 800 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی تھیں۔‘‘ایل ٹی سی شہر کے 19 روٹس پر بسیں چلا رہی تھی تاہم حکام کی غفلت کی وجہ سے سروس آپریٹرز کیساتھ معاہدے کی تجدیدنہ ہوسکی اور سارا الزام بیرونی سرمایہ کاروں پر ڈال دیا گیا کہ انہوں نے پیسہ دینے سے انکار کردیا ہے ، یوں کمپنی کو سروس بالکل بند کرنا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ ایل ٹی سی کی سروس سبسڈی پر چل رہی تھی ، مسافروں کی تعداد کم ہونے پر بھی صبح سے شام تک بسیں چلتی رہتی تھیں۔

ظفر قریشی نے کہا کہ ہم ہر سال مجوزہ روٹس پر بسیں چلانے کیلئے فنڈز مانگتے رہے لیکن فنڈز جاری نہیں کیے گئے، تاہم اب اگر حکومت فنڈز فراہم کرتی ہےتو نئی بسیں خریدی جا سکتی ہیں۔

چیف آپریٹنگ آفیسرایل ٹی سی نے کہا کہ انہوں نے نومبر 2019 میں کچھ انویسٹرز کیساتھ دوبارہ معاہدہ کیااور حکومت کو ماحول دوست بسیں چلانے کیلئے گرین فیول، سی این جی اور الیکٹرک بسوں کے ماڈلز بھی تجویز کیے ،موجودہ حکومت سروس بحالی میں دلچسپی رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ،’’ہمارا پرپوزل مشیر وزیراعلیٰ برائے اقتصادی امور ڈاکٹر سلمان شاہ کے پاس موجود ہے اور منظوری کے مرحلے میں ہے۔ ہنگامی بنیادوں پر 300 بسوں کی ضرورت ہے حالانکہ لاہور میں سفری سہولیات فراہم کرنے کیلئے 1500 بسوں کی ضرورت ہے۔‘‘

 انہوں نے کہا کہ مذکورہ سروس چلانے کیلئے فرسٹ بس کمپنی، اویس ٹریولز اور کچھ ترک کمپنیاں دلچسپی دکھا رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here