داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، 2024 میں بجلی پیدا کرنا شروع کر دے گا

475

لاہور: واپڈا کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) مزمل حسین نے کہا ہے کہ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کی رفتار بڑھ رہی ہے اور یہ 2024 کے دوسرے نصف میں بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سٹیج ون کے تمام چھ یونٹس، جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2160 میگاواٹ ہے، 2025 کے اوائل تک مکمل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو سستی بجلی کے لیے سولر اور ونڈ پاور پر منتقل ہونا ہو گا، رپورٹ

چیئرمین واپڈا نے یہ انکشاف پراجیکٹ سائٹ کے دورے کے دوران کیا جب کہ ان کے ہمراہ واپڈا کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

لیفٹننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ پراجیکٹ کے لیے ناگزیر اراضی کی قیمتوں سے متعلق مسائل وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت کی مدد سے حل کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے مرکزی ٹنل پر تعمیراتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جو پاور ہائوس تک جاتی ہے جب کہ دو ڈائیورشن ٹنلز، پراجیکٹ کے دفاتر اور کالونی کا بھی دورہ کیا۔ پراجیکٹ مینجمنٹ نے چیئرمین واپڈا کو پراجیکٹ پرہو رہی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کو اس بارے میں بھی آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ رواں برس جون تک زمین کے حصول کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں: مہمند ڈیم 2025 میں مکمل کر لیا جائے گا: چئیرمین واپڈا

چیئرمین واپڈا نے کہا، سٹیج ون پر جاری بنیادی سول ورکس کے علاوہ علاقے میں تعمیراتی سرگرمیوں پر بھی کام جاری ہے۔

انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے کہا، ان میں رائٹ بنک تک رسائی کے لیے سڑکوں، قراقرام ہائی وے کا رُخ موڑنا، 132 کلوواٹ کی ٹرانسمیشن لائن اور گرڈ سٹیشن کی تعمیرشامل ہے  تاکہ ڈوبر خوار ہائیڈل پاور سٹیشن سے سائٹ تک بجلی فراہم کی جائے اور منصوبے، متعلقہ علاقوں، پراجیکٹ کالونی اور دیگر سرگرمیوں پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here