آئی سی سی آئی کے صدر پاک ترک فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے حوالے سے پرامید

253

اسلام آباد: ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد (آئی سی سی آئی) کے صدر محمد احمد وحید نے پاکستان اور ترکی کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) پر دسختط کے بعد تجارتی مواقع کے بڑے پیمانے پر پیدا ہونے کی امید ظاہر کی ہے اور کہا کہ  اس معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم کو یکساں کرنے میں مدد حاصل ہو گی۔

انہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا، دونوں ملکوں کے درمیان ایف ٹی اے کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد دوطرفہ تجارت کا حجم 800 ملین ڈالر سے بڑھ کر پانچ ارب ڈالر ہو جائے گا جس کے باعث ملکی تجارت کو بڑھانے اور فارن اکائونٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔

مزید پڑھیں: آزادانہ تجارت کے معاہدے سے پاک ترک باہمی تجارت میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے

انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردگان کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد اس امید کا اظہار بھی کیا کہ دونوں ملکوں میں ایف ٹی اے پر اتفاقِ رائے ہو جائے گا جس کے باعث دوطرفہ تجارت اور معاشی تعلقات کے فروغ کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے صدر نے کہا کہ ایف ٹی اے کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا 9 واں دور ختم ہو چکا ہے اور مذاکرات کے 10 ویں دور کے شروع ہونے کے بعد اطراف نے جنوری میں وزیراعظم عمران خان کے دورہ ترکی کے دوران پاک ترکی سٹریٹیجک اکنامک فریم ورک (ایس ای ایف) کو رسمی شکل دینے پر اتفاق کیا اور اس حوالے سے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی۔ وزیراعظم کی اجازت کے بعد ایس ای ایف کا ڈرافٹ ترکی کو بھیج دیا گیا اور ترکی کے صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں کے رہنمائوں نے ناصرف اس کی توثیق کی بلکہ اس پر دستخط بھی کیے۔

 انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا، ایس ای ایف کے ذریعے پاکستان ترکی کی نمایاں منڈیوں تک ٹیرف کے بغیر رسائی حاصل کرلے گا تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہو۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ اطراف نے ایک ترجیحی فہرست مرتب کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ ان ملکوں کے نمایاں شعبوں کی شناخت ہو سکے جس کا حتمی مقصد دوطرفہ تجارت کے حجم کو فروغ دینا ہے۔

محمد احمد وحید نے مزید کہا کہ پاکستان کی 20 نمایاں برآمدات کا حجم چار سو ملین ڈالر سے بڑھ کر 26 سو ملین تک ہو سکتا ہے جب کہ ترکی کی 20 نمایاں برآمدات کا حجم دو اعشاریہ چھ ارب ڈالر سے بڑھ کر دو سو ملین ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکی کو ڈینم پیٹ، ایتھانول، کاٹن یارن، فیبرک اور چاول، گارمنٹس، چمڑا، قالین، آلاتِ جراہی، کھیلوں کی مصنوعات اور کیمیکلز برآمد کر سکتا ہے۔  انہوں نے کہا کہ اطراف نے مصنوعات، خدمات اور دوطرفہ سرمایہ کاری پر مذاکرات کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ایف ٹی اے پر دستخط کے بعد دونوں ملک تجارتی توازن میں بہتری لانے کے قابل ہو جائیں گے۔ آئی سی سی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایف ٹی اے کو حتمی شکل  دیے جانے کے بعد پاکستان ترکی کے زرعی اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی سے پاکستان کی بنیادی درآمدات میں مین میڈ ٹیکسٹائلز، تولیے، فولادی ڈھانچے، ٹیننگ و پلاسٹک کیمیکلز، پراسیسگ دودھ اور اس سے بننے والی دیگر مصنوعات وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ایف ٹی اے کے ذریعے اطراف کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات اور دونوں ملکوں کی کاروباری کمیونٹی میں تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور ترکی کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا، ہم ترک کمپنیوں کے ساتھ تعاون بڑھا سکتے ہیں اور ٹیکسٹائل کے علاوہ  دیگر اہم سیکٹرز جن میں تعمیرات، سیاحت، انجینئرنگ، فوڈ پراسیسنگ، کیمیکلز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان کی مہارت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو بہرصورت دنیا کے مختلف حصوں میں تجارت کے فروغ کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی مختلف خطوں میں کام کر رہی ہے جن میں آسیان ممالک، افریقن ریجن اور شمالی و جنوبی امریکا شامل ہیں۔

ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے صدر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صنعتی اور سرمایہ کاری کے تناظر میں بھی دونوں ملکوں کے بورڈ آف انوسٹمنٹس کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے ذریعے مقامی خصوصی معاشی زونز میں ترکی کی جانب سے تعاون اور مدد کا حصول زیرِغور ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here