ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کی دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا جائزہ

119

اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے گزشتہ روز سے پاکستان کی جانب سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بحث کے لیے ریویو میٹنگز کا آغاز کر دیا ہے۔

عالمی نگران ادارے کی ورکنگ گروپ کی میٹنگز 21 فروری تک پیرس میں ہوں گی جن میں فنڈز کی غیرقانونی منتقلی کے بارے میں معلوم کرنے اور روکنے کے حوالے سے عالمی کوششوں کا جائزہ لیا جائے گا جو دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر جرائم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ان میٹنگز میں ملکوں جیسا کہ ایران اور پاکستان کی جانب سے ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا کیوں کہ منی لانڈرنگ معاشی نظام کے لیے ایک سنگین نوعیت کا خطرہ ہے۔

وزیر برائے معاشی امور حماد اظہر پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں جس میں وزارت خارجہ، وزارتِ داخلہ کے علاوہ سٹیٹ بنک آف پاکستان اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے افسران بھی شامل ہیں۔

تجزیہ کار یہ امید کر رہے ہیں کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بڑی حد تک شرائط پر اترنے کی درجہ بندی حاصل کرتے ہوئے گرے لسٹ سے نکل جائے گا یا یہ ممکن ہے کہ وہ نگران ادارے سے شرائط پورا کرنے کے لیے مزید وقت طلب کرے۔

مزید پڑھیں: ہر دبائو کے باوجود ایف اے ٹی ایف  کی گرے لسٹ سے نکلنے میں پاکستان کی بھرپور مدد کریں گے: صدر اردگان

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں جوائنٹ گروپ کی رپورٹ کی بنیاد پر پرکھا جائے گا کہ اسے ممکنہ طور پر گرے لسٹ سے نکالا جائے یا کم از کم بلیک لسٹ میں شامل نہ کیا جائے۔

خبروں کے مطابق، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 39 میں سے محض 12 ووٹ چاہئیں۔ پاکستان پہلے ہی چین، ترکی اور ملائشیا سے مکمل حمایت حاصل کر چکا ہے اور سفارتی مہم کے ذریعے 12 ووٹ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ پاکستان نے تجاویز کی اکثریت پر نمایاں طور پر عملدرآمد کرنے کے علاوہ ناگزیر اقدامات بھی کیے ہیں۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے 28 جنوری کو کہا تھا کہ پاکستان نے گرے لسٹ سےخارج ہونے کےلیے نمایاں پیشرفت کی ہے جب کہ مرکزی بنک منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرتا رہا ہے۔

ڈاکٹر رضا باقر نے مالیاتی پالیسی کا اعلان اور شرح سود 13.25 پر برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ مئی اور ستمبر میں ایف اے ٹی ایف کے آخری دو جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نے ان 27 نکات میں نمایاں پیش رفت کی ہے جن کی نشاندہی ایف اے ٹی ایف نے کی تھی۔

تاہم، انہوں نے کہا، ایف اے ٹی ایف فائنل اتھارٹی ہے جس نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے کافی ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ملک کو اس سمت میں پیشرفت جاری رکھنا ہو گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان ’بہت جلد ‘ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل آئے گا: دفتر خارجہ

گزشتہ ماہ انڈیا کی شدید ترین مخالفت کے باوجود ایف اے ٹی ایف کے متعدد ارکان بشمول یورپی یونین اور امریکا نے پاکستان کی اکتوبر 2019 سے جنوری 2020 تک کارکردگی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

وفاقی وزیر برائے معاشی امور حماد اظہر کی قیادت میں پاکستانی وفد نے گزشتہ ماہ بیجنگ میں ہونے والی ورکنگ گروپ کی میٹنگ میں رپورٹ پیش کی تھی اور ملک کی جانب سے دہشت گردوں کی فنڈنگ روکنے اور منی لانڈرنگ کے تدارک کے لیے گزشتہ برس اکتوبر سے کیے جانے والے اقدامات اور ان پر پیشرفت کے حوالے سے وضاحت پیش کی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here