بڑھتی ہوئی مہنگائی سے کسانوں، مزدوروں کا خطِ غربت سے اٹھنا مشکل، معاشی حقوق کا مطالبہ

290

لاہور: حیدرآباد میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) کے زیر اہتمام مزدوروں اور کسانوں کے حقوق کے لیے سندھ ہری اور مزدور کنوینشن منعقد کیا گیا۔ 

کنوینشن میں سینکڑوں کسانوں، مزدوروں، گھریلو ملازمین اور انسانی حقوق کے محافظوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر انسانی حقوق کے نمائیندوں نے حکومت سے افراطِ زر میں اضافے کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ غریب طبقہ چینی اور آٹا خریدنے کے بھی قابل نہیں رہا۔

تقریب میں مزدور یونین کی قیادت، سندھ ہری کنونشن کے قائدین اور کونسل ممبر ایچ آر سی پی حنا جیلانی نے شرکاء سے خطاب کیا، مقررین نے کہا کہ وہ مزدوروں کے حقوق اور انکے خوشحال ہونے تک ملک بھر میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔

کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افراطِ زر، بے روزگاری اور اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے مزدور طبقے کا جینا مشکل کر دیا ہے۔

مقررین نے کہا کہ حکومت اپنی غلط معیشی حکمت عملی تسلیم کرے اور ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کی جائے جبکہ حکومت معیشی حالات ساز گار بنانے کے لیے اپنی ترجیحات درست کرے۔

مقررین نے کہا کہ ریاست شہریوں کے آئینی حقوق کو فرض سمجھتے ہوئے انہیں مناسب روزگار، صحت اور تعلیم فراہم کرے جبکہ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں مرد و خواتین کو سرکاری طور پر ہر شعبے میں برابر اجرت دینے کا اعلان کرے۔

انسانی حقوق کے علمبرداروں نے کہا کہ حکومت کسانوں کو گھروں کے مالکانہ حقوق دے جبکہ فصلوں اور مویشیوں کو قدرتی آفت یا کسی اور خطرے کی صورت میں انشورنس کے ذریعے تحفظ فراہم کرے تاکہ انہیں خطِ غربت سے نکالا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here