وزیر اعظم کا آٹے اور چینی بحران میں حکومت کوتاہی کا اعتراف، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کا عندیہ

کئی چینل منصوبہ بندی سے حکومت خلاف پروپیگنڈا کررہے ہیں، کبھی نہیں کہا پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا دونگا، عمران خان کا لاہور میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

135

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ آٹے اور چینی کے بحران حکومت کی عدم توجہی اور کوتاہی کی وجہ سے پیدا ہوئے، اسکے ساتھ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تحقیقات مکمل ہونے پر ذمہ داروں کیخلاف بھرپور کارروائی ہوگی۔

لاہور میں صحت انصاف کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ایک مہنگائی وہ ہے جو بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے خسارے کی وجہ سے ورثے میں ملی، دوسری مہنگائی روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں اشیائےخورو نوش مہنگی ہوگئیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ چینی اور  آٹا حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے مہنگا ہوا، اس کی پوری تحقیقات ہورہی ہیں۔ بحران پیدا کرکے فائدہ اٹھانے میں جو بھی ملوث ہوا، وہ وعدہ کرتے ہیں کہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ انہیں پتا چلتا جارہا ہے کہ کون کون اور کس طرح کے طبقوں نے آٹے اور چینی کا بحران پیدا کرکے فائدہ اٹھایا، اب سسٹم ایسا لے کر آئیں گے کہ کسی چیز کی کمی کا پہلے سے ہی علم ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کو گندم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی تاہم وزیراعظم نے چند اعتراضات لگاکر رپورٹ واپس کردی تھی اور 2 ہفتوں میں جامع رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی۔

اس سے قبل ملک میں آٹے کے بحران کی وجہ سے قیمتیں 70 روپے فی کلو تک جا پہنچیں تھیں جس کے بعد اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی تھی۔

’حکومت کیخلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کئی ٹی وی چینلز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا میں عوام کو بھی شامل کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنا دیں گے البتہ مدینہ کے ریاستی اصول ضرور سامنے تھے جس کی بنیاد پر ملکی نظام تشکیل دینا ہے۔

’ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کررہے‘

وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پہلی مرتبہ صحت انشورنس کا نظام لائے اور اسی نظام کی بدولت وہاں دوسری مرتبہ الیکشن میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ انصاف صحت کارڈ کے ذریعے کسی بھی ہسپتال سے علاج کرایا جا سکتا ہے،  ہسپتالوں کی نجکاری نہیں کررہے بلکہ خود مختار بنا رہے ہیں اور مجوزہ اصلاحات کے ذریعے سرکاری انتظامی امور تشکیل پائیں گے جن کا معیار بھی پرائیوٹ ہسپتالوں کی طرح ہوگا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ 60 ارب کی درآمدات کر رہے تھے اور 20 ارب روپے کی چیزیں بیچ رہے تھے جس کی وجہ سے تجارتی خسارہ بڑھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شعبہ صحت میں انقلابی تبدیلیاں لارہے ہیں۔ میڈیکل آلات کی درآمد پر ڈیوٹی ختم کردی ہے تاکہ لوگ ملک میں ہسپتال بنائیں اور معیاری اور سستا علاج فراہم کریں۔

سیف سٹی اتھارٹی کا دورہ:

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا دورہ کیا جہاں انہیں سیف سٹی اتھارٹی ، اسکے دائرہ کار ، کارکردگی اور پولیس خدمت مرکز کے گلوبل پورٹل کے اجراء پر بریفنگ دی گئی۔

ایم ڈی سیف سٹی اتھارٹی نے بریفنگ کے دوران آگاہ کیا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے اقدامات کی بدولت لاہور دنیا کے سو محفوظ ترین شہروں میں شامل ہو گیاہے۔

پولیس خدمت مرکز کے گلوبل پورٹل کے اجراء کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ ان مراکز کی بدولت عوام الناس کو 14 سہولیات کی فراہمی ایک ہی چھت تلے میسر ہو سکے گی۔

گلوبل پورٹل کے اجراء کی بدولت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سفارتخانے اور وزارت خارجہ کے ذریعے ون کلک آپشن سے بغیر کسی رکاوٹ کے متعدد سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی۔

وزیراعظم عمران خان نے گلوبل پورٹل کا اجرا کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل پورٹل کے اجراء سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولت میسر ہوگی اور ان کا اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اعتماد بحال ہو گا۔

وزیراعظم نے گلوبل پورٹل کے اجراء کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ گلوبل پورٹل کا اجرا پولیس کا قابل تحسین اور متاثر کن اقدام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیح ہے کہ ملک میں امن و امان اور قانون کی عملداری ہر صورت ممکن بنائی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو جب تک محفوظ ماحول فراہم نہیں ہوگا وہ سرمایہ کاری کرنے میں دقت محسوس کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ معیشت کی ترقی امن و امان کی بہتر صورتحال اور قانون کی عمل داری سے منسلک ہے، دولت کی پیداوار (ویلتھ کری ایشن) کی بدولت ہی ملکی معیشت ترقی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح ہے کہ قانون کی عملداری کے ذریعے عوام الناس کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں، اس ضمن میں پولیس کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔

 وزیراعظم نے یہ بھی ہدایت کی کہ محکمہ پولیس میں سزا اور جزا کے نظام کو رائج کرنے پر بھرپور توجہ دی جائے، اس کے بغیر پولیس میں بہتری ممکن نہیں ہو گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here