گاڑیوں کی فروخت میں 47.8 فیصد، موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 3.5 فیصد کمی

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران برآمدات میں 3 فیصد اضافہ، درآمدات میں 16 فیصد کمی ہوئی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت کا قومی اسمبلی میں جواب

202

اسلام آباد:پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کے مطابق جنوری 2020 میں آٹوموبائلز کی فروخت 47.8 فیصد جبکہ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 3.5 فیصد کمی ہوئی ہے۔

آٹو موبائلز اور موٹرسائیکلز بنانے والی کمپنیوں کے مطابق سال کے آخر میں صارفین زیادہ دلچسپی نہیں لیتے اور نئے سال تک خریداری میں تاخیر کرتے ہیں۔

دوسری طرف حکومتی عدم توجہی یا قواعد و ضوابط نہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین متبادل نہ ہونے کے باعث مہنگی گاڑیاں خریدنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں کمی، محکمہ ایکسائز کے لیے ریونیو اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گیا

ٹیوٹا، انڈس موٹرز، پاک سوزوکی اور ہونڈا اطلس  نے اپنی کاروں کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے دوران کئی بار اضافہ کیا ہے۔

برآمدات میں اضافہ، درآمدات میں کمی

دوسری طرف قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی برآمدات میں 3 فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 16 فیصد کمی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات کے لیے ایکسپورٹ پالیسی تشکیل دینے پر زور

پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت عالیہ حمزہ ملک نے سوال و جواب کے سیشن میں کہا کہ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران درآمدات میں کمی کی وجہ سے درآمدی خسارے میں 30 فیصد تک کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان کی یورپی ممالک سے تجارت کا حجم 11960 ملین ڈالر سے بڑھ کر 14158 ملین ڈالر ہو گیا ہے۔

بھارت کے ساتھ تجارت منسوخ ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں عالیہ ملک نے کہا کہ اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی یک طرفہ قانون کے باعث پاکستان نے  بھارت کے ساتھ درآمدات منسوخ کی تھیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here