بھارتی حکومت کا مقبوضہ کشمیر میں 6 ہزار ایکڑ زمین سرمایہ کاروں کو فراہم کرنے کا منصوبہ

277

نئی دہلی: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے نام پر 6 ہزار ایکڑ زمین سرمایہ کاروں کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

سرمایہ کاری سے متعلق اجلاس اپریل یا مئی میں متوقع ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ مقبوضہ وادی کے کس علاقے میں سرمایہ کاروں کو زمین فراہم کی جائے۔

بھارت نے گزشتہ سال 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی جس کے بعد کشمیری عوام کئی مہینوں سے گھروں میں محصور ہیں،  احتجاجوں پر قابو پانے کیلئے ہزاروں اضافی فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہےاور فون اور انٹرنیٹ سروسز سمیت ذرائع  ابلاغ کی دیگر سہولتیں کئی علاقوں میں تاحال بند ہیں۔

متنازعہ علاقے کے کمشنراور انچارج صنعت و تجارت منوج کمار دویدی کے مطابق بھارتی حکومت نے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے سرمایہ کاروں کو 6 ہزار ایکڑ زمین، انشورنس اور ٹیکس مراعات دینے کی پیشکش کی ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کہا ہے کہ پاکستان کے کشمیر پر دعوے کے باعث اگست 2019 میں کی جانے والی قانون سازی جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے ناگزیر تھی۔

مقبوضہ کشمیر صنعتی علاقہ تصور نہیں کیا جاتا البتہ وہاں 2016-17 میں فی کس آمدن 62 ہزار 145 بھارتی روپے رہی جو کہ کئی بھارتی ریاستوں سے بہتر تھی۔

منوج کمار نے کہا کہ حکومت حساس علاقوں میں سرمایہ کاروں کو انشورنس اورسکیورٹی فراہم کرے گی، سرمایہ کاروں کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہو گی۔اسکے علاوہ  یہاں ایک لاکھ نوکریاں دی جائیں گی۔

کشمیر میں زمینی معاملات حساس نوعیت کے سمجھے جاتے ہیں، اس سے قبل آبادی کے تناسب میں فرق یا لوگوں کی نقل مکانی کے خوف کے باعث باہر کے لوگوں کے لیے زمین خریدنا ممنوع تھا۔

بزنس سمٹ کے منصوبے سے منسلک ایک کنسلٹنٹ کا کہنا ہے بھارتی حکومت کے منصوبے کے تحت 250 سے زائد شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی سرمایہ کاروں نے سیمنٹ، تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی ظاہر کی ہے۔

تاہم، جموں و کشمیر کے سابق وزیر خزانہ حسیب ڈرابو نے اس منصوبے کومضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی سکیورٹی صورتحال نازک ہے۔ سرمایہ کاری کے لیے پرامن ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here