ہر دبائو کے باوجود ایف اے ٹی ایف  کی گرے لسٹ سے نکلنے میں پاکستان کی بھرپور مدد کریں گے: صدر اردگان  

کشمیر ترکی کیلئے بھی اتنا ہی اہم جتنا پاکستان کیلئے ہے، پاکستان کا دکھ ترکی کا دکھ ہے، تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں، سی پیک میں ساتھ ملکر کام کر سکتے ہیں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس، پاک ترک بزنس فورم سے خطاب

251
اسلام آباد: ترک صدر رجب طیب اردگان پاکستان کی پارلمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں، فوٹو: پی آئی ڈی

اسلام آباد: ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ہر قسم کے دبائو کے باوجود فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) کی گرے لسٹ  کیلئے نکلنے کیلئے پاکستان کی بھرپور مدد کریں گے۔

صدر رجب طیب اردگان نے جمعہ کو پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ترک صدر رجب طیب اردوان کا پرتپاک استقبال کیا۔

مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کے عوام کو نمائندہ ایوان کے توسط سے سلام محبت پیش کرتے ہیں۔ مشترکہ اجلاس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے پر سب کے شکر گزار ہیں، جس طرح پاکستان میں پرجوش استقبال اور مہمان نوازی ہوئی اس پر پوری پاکستانی قوم کے شکر گزار ہیں۔

ترک صدر اردگان پاکستان کی پارلیمنٹ میں آمد کے موقع پر ارکان کو ہاتھ ہلا رہے ہیں، فوٹو: پی آئی ڈی

انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور یہاں آکر کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا،آج پاکستان اور ترکی کے تعلقات بہترین نوعیت کے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف میں بھرپور حمایت کی یقین دہانی

ترک صدر نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے عفریت سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے لیکن کم مدت میں دہشتگردی کے خلاف جو کامیابیاں سمیٹی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ترکی کا بھی بھرپور ساتھ دیا، پاک ترک اسکولوں کا نظام ترکی کے حوالے کر کے حقیقی دوست ہونے کا ثبوت دیا۔

صدر ارگان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں، فوٹو: پی آئی ڈی

صدر اردگان نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ہم پاکستان کے ساتھ تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھیں گے اورتمام تر دباؤ کے باوجود ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بھرپور حمایت کا یقین دلاتا ہوں۔دونوں ممالک کی دوستی مفاد پر نہیں بلکہ محبت پر مبنی ہے۔

رجب طیب اردوان نے کہا کہ پاکستانی حکومت کے مثبت اقدامات سے سرمایہ کاری اور تجارت کا ماحول سازگار ہو رہا ہے لیکن اقتصادی ترقی چند دنوں میں حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

کشمیر ترکی کیلئے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کیلئے ہے

کشمیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ کشمیر ترکی کے لیے بھی وہی حیثیت رکھتا ہے جو پاکستان کے لیے رکھتا ہے، پاکستان کا دکھ ترکی کا دکھ ہے اور پاکستان کی خوشی ترکی کی خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات سے کشمیری بھائیوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا لیکن مسئلہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف سے ممکن ہے۔

ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ پلان پر تنقید

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ عالمی برادری نے شام کے عوام کو تنہا چھوڑ رکھا ہے لیکن ترکی 40 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے۔مظلوم مسلمانوں کا ساتھ دینا ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے۔

صدر اردگان وزیر اعظم عمران خان، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کر رہے ہیں، فوٹو : پی آئی ڈی

رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ سے متعلق منصوبہ امن کا نہیں بلکہ قبضے کا منصوبہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت حکومتی و اپوزیشن ارکان نے کی بڑی تعداد نے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کے لیے پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی اور پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔

پاک ترک بزنس فورم سے خطاب

وزیر اعظم عمران  خان اور ترک صدر طیب اردگان نے پاک ترک بزنس فورم سے بھی خطاب کیا۔

 اپنے خطاب میں وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ ہماری حکومت کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کروا رہی ہے اور ترکی سے تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے سب کچھ کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ آج پارلیمنٹ سے رجب طیب اردگان کے خطاب کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ پاکستان میں الیکشن جیت سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تاجروں کو کاروبار اور سرمایہ کاری کیلئے ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ ایک دسرے کے ملک میں سرمایہ کاری کے علاوہ مشترکہ منصوبوں پر بھی کام کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم خصوصی طور پر ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان کے سیاحتی شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ جس طرح ترکی کی سیاحتی صنعت نے ترقی کی ہے پاکستان اس سے کافی کچھ سیکھ کر آگے بڑھ سکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں بھی ترکی سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں ، پاکستان کے پاس دنیا کی دوسری بڑی نوجوان آبادی ہے، آئی ٹی سیکٹر میں بھی ترک کاروباری برداری سے سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں۔

وزیر اعظم نے کان کنی  اور  زراعت  کے شعبوں میں بھی ترک سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کاروباری کیلئے آسانیوں کے عالمی انڈیکس میں ایک سال کے دوران 28 درجے بہتری حاصل  کی ہے ۔

پاک ترک بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی مابین سیاسی تعلقات کی طرح کاروباری اور تجارتی تعلقات کو بھی فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک کے کاروباری طبقے کے کیلئے دروازے کھولنے کیلئے پر امید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کا موجودہ تجارتی حجم 8 ملین ڈالر ہے جو صلاحیت سے بالکل کم ہے اور کسی صورت قابل قبول نہیں۔ مسلم دنیا کی مشترکہ آبادی تین ارب سے زیادہ ہے لہٰذا ہمیں باہمی تجارت کو اس مقام تک لے جانا چاہیے جس کے ہم مستحق ہیں۔

تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں

رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکی نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے، پہلے مرحلے میں تجارتی حجم ایک ارب ڈالر اور پھر 5 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کو فلم سازی میں بھی اشتراک کرنا چاہیے۔ ترکی میں دفاع، نقل وحمل، ہاؤسنگ، صحت عامہ اور تعمیرات کے شعبوں میں عالمی شہرت یافتہ کمپنیاں کام کر رہی ہیں حالانکہ ترکی کو دیگر ممالک کی طرح یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔

صدر اردگان نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری پر چین کی کاروباری شخصیات کو بہتر طریقے سے تفصیلات بتانی چاہیے تھیں، ہم اس سلسلے میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

صدر اردگان نے کہا کہ ترک میں 158 پاکستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، ہم کچھ شرائط پر پاکستان سرمایہ کاروں کو شہریت دے رہے ہیں، پاکستان کاروباری حضرات کو کہتا ہوں کہ ہم دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں میں سے ایک ہیں، آپ ہم پر اعتماد رکھیں اور ترکی میں مزید سرمایہ کاری کریں۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ان کے ملک پر ایک دور میں 72 فیصد قرضہ تھا جسے ہم نے کم کرکے 32 فیصد کیا ہے، خطے کی گھمبیر صورتحال کے باوجود ترکی ترقی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو سہولتیں دینے کیلئے پاکستانی حکومت کے اقدامات قابل تعریف ہیں، وزیر اعظم عمران خان کی مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا میرے بھائی عمران خان کی قیادت میں حکومت سرمایہ کاروں کو اچھا ماحول فراہم کر رہی ہے، پاکستانیوں میں بے پناہ صلاحتیں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان جمعرات کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔

ترک صدر کو ایوان وزیراعظم میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا تھا جب کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ترک ہم منصب کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام بھی کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here