پنجاب حکومت نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تیار

51

لاہور: پنجاب کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے قوانین میں ترامیم کر دی ہیں تاکہ پانچ نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو رجسٹر کیا جا سکے اور توثیق کے لیے سمری صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی ہے۔

اوبر، کریم، ایئرلفٹ، سویول اور بائیکیا اس وقت صوبائی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کے بغیر کام کر رہی ہیں۔ ذرائع نے کہا ہے کہ ان کمپنیوں کے نمائندے اپنی کمپنیوں کو محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ رجسٹر کروانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ چھ ماہ کے مذاکرات، جن میں تجاویز پر بحث بھی ہوئی، وہ بالآخر محکمے کو ترامیم کرنے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوگئے جو انٹرنل لیگل برانچ میں بھی زیربحث آئیں۔

مزید پڑھیں: پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی، خلاء پُر کرنے کیلئے نجی کمپنیاں میدان میں، کیا ائیرلفٹ موثر پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کر پائیگی؟

ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ محکمے نے بعدازاں ترامیم کی سمری فنانس، ریگولیشنز اور لا ڈیپارٹمنٹ کو تصدیق کے لیے ارسال کر دی۔ محکمے کی جانب سے اجازت حاصل ہو جانے کے بعد یہ سمری کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہے۔

ذرائع نے اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے ترامیم منظور کر لی ہیں اور یہ سمری اب اجازت کے لیے کابینہ میں پیش کی جائے گی جس کے بعد صوبائی اسمبلی ان کا جائزہ لے گی اور انہیں منظور کرے گی اور یوں یہ ایک ایکٹ یا قانون بن جائے گا۔

افسر نے کہا ہے، ترمیم شدہ قوانین کے مطابق، آن لائن کمپنیاں لائسنس حاصل کیے بغیر آپریٹ نہیں کر سکتیں۔ ابتدا میں ان کمپنیوں کو لائسنس کے لیے 50 لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے اور یہ لائسنس تین برس کے لیے موثر ہوگا جس کے بعد دو ملین میں اس کی تجدید ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا، وہ کمپنیاں جو لائسنس کے بغیر آپریٹ کرتی رہی ہیں تو انہیں تین ملین روپے جرمانہ کیا جائے گا۔

ترامیم شدہ قوانین کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ کمپنیاں اپنے پی وی ایچ اور سی وی ایچ لائسنسوں کے حامل ڈرائیوروں کے پس منظر کے بارے میں آگہی حاصل کرنے کی پابند ہوں گی۔

کریم کی ترجمان مدیحہ جاوید نے اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا، ان کا ادارہ آرڈیننس میں ترمیم کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کے ساتھ کام کرتا رہا ہے کیوں کہ وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ صوبائی حکومت اور رائیڈ ہیلنگ انڈسٹری کےلیے مفید ہے۔ ہماری کمپنی مقامی قوانین کے تحت رجسٹرڈ کروائی گئی ہے۔ ہم صوبائی فنانس ایکٹس کے تحت تمام قابلِ اطلاق ٹیکس ادا کر رہے ہیں جو سندھ میں پانچ فی صد اور خیبرپختونخوا میں دو فی صد ہیں۔

اوبر کے ترجمان حیدر بلگرامی نے کہا ہے کہ اوبر صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر فعال انداز سے کام کر رہی ہے اور ان کے دوطرفہ اتفاق رائے نے ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہم جب سے پاکستانی مارکیٹ کا حصہ بنے ہیں، ہم نے ہمیشہ ریگولیٹری فریم ورک کے عملدرآمد کے حوالے سے حکومت کی مکمل حمایت کی ہے۔

سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسدالرحمان نے تصدیق کی ہے کہ ذرائع کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات درست ہیں اور یہ کہا ہے کہ یہ اہم ہے کہ حکومت ان کمپنیوں کو سرکاری طور پر تسلیم کرے۔ ہم نے چھ ماہ تک ان ترامیم پر کام کیا ہے اور سمری کو اجازت کے لیے کابینہ کو ارسال کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بار یہ کمپنیاں رجسٹر ہوجاتی ہیں تو حکومت ان سے لائسنسنگ کی فیس اور صوبائی و فیڈرل ٹیکسز کی مد میں ریونیو حاصل کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

مقامی ٹرانسپورٹروں کا عدم تحفظ

ٹرانسپورٹرز نے ان کمپنیوں کو سہولیات کی فراہمی اور اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا موازنہ کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ انہیں ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے پرمٹ حاصل کرنے کے علاوہ مقامی ٹرمینلز میں بھی فیس ادا کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا، ان کی یونین مسافروں کی یکساں تقسیم کے لیے کام کر رہی تھی لیکن یہ نجی کمپنیاں کسی بھی رجسٹریشن کے بغیر ان مسافروں کو اپنی سواری میں کھینچ لیتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں سہولیات فراہم کرنے کے  لیے پالیسیاں تشکیل دے کیوں کہ وہ عوام کو کم قیمت میں سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مصری اسٹارٹ اپ ٹرانسپورٹ کمپنی کا پاکستان کے بعد فلپائن، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش میں بھی سروس شروع کرنے پر غور

تاہم سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ یہ کمپنیاں قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کر رہی ہیں کیوں کہ ان کے پاس ان کے روٹ پرمٹ ہیں۔ اگرچہ یہ کمپنیاں سرکاری طور پر محکمے کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں لیکن وہ بس مالکان جو ان کمپنیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ان کے اپنے انفرادی پرمٹ موجود ہیں۔ یہ کمپنیاں بالائی متوسط طبقے پر توجہ دے رہی ہیں کیوں کہ ان کی سروسز قدرے مہنگی ہیں جب کہ عوام لوکل ٹرانسپورٹ سروسز استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث مارکیٹ تقسیم کا شکار ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام انتخاب کے مستحق ہیں اور حکومت اس حوالے سے محض ان کی معاونت ہی کرسکتی ہے۔ ہمیں لازمی طور پر ان کمپنیوں کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینی چاہئے کیوں کہ یہ رجحان دنیا بھر میں نمایاں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here