مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی جگہ ہارون اختر خان کو تعینات کیے جانے کا امکان

مشیر خزانہ کیلئے طارق پاشا کا نام بھی زیر گردش، ہارون اختر کی وزیر اعظم سے ملاقات، معاشی معاملات پر تفصیلی بریفنگ، چیئرمین ایف بی آر اپنی مرضی کا لانے کا عندیہ: میڈیا رپورٹ

281

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی جگہ سابق سینیٹر ہارون اختر خان کو مشیر خزانہ تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) شبرزیدی کو بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جا رہا ہےجو طویل عرصے سے طبی تعطیل پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:

 استعفیٰ نہیں دیا ،خرابی صحت کی وجہ سے کام نہیں کر پا رہا: شبرزیدی

مشیر خزانہ ، گورنر سٹیٹ بینک کو تبدیل نہیں کیا جا رہا: وزیر اعظم

ہارون اختر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کےرہنما ہمایوں اختر کے چھوٹے بھائی اور سابق ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی )جنرل اختر عبدالرحمٰن کے بیٹے ہیں، وہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر بھی رہے ہیں اور 2018 میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا۔

مشیر خزانہ کے عہدے کیلئے طارق پاشا کا نام بھی گردش میں ہے۔

ہارون اختر خان

میڈیا رپورٹ کے مطابق  ہارون اختر نے حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرکے معاشی معاملات پر تفصیلی بریفنگ دی ہے،  انہوں نے وزیر اعظم سے کہا ہے کہ بطور مشیر خزانہ  تعیناتی کی صورت میں کام کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے اور چیئرمین ایف بی آر کا نام بھی وہ اپنی مرضی سے دیں گے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کی درخواست منظور کرتے ہوئے دوسری مرتبہ ٹیکس ہدف میں کمی کرکے 5238 ارب روپے سے 4800 ارب روپے مقرر کردیا ہے۔

اس سے قبل جب گزشتہ سال پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ بیل آئوٹ پیکج کے معاہدے  پر دستخط کیے تھے تو سالانہ ٹیکس آمدن کا ہدف 5500 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا جسے آئی ایم ایف نے قرضے کی پہلی قسط کے بعد نظر ثانی کرتے ہوئے کم کرکے 5238 ارب روپے کردیا تھا۔

ایف بی آر حکام نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا کہ رواں مالی سال کے اختتام تک 4800 ارب روپے ٹیکس ہدف پورا کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ نئے ہدف کو پورا کرنے کیلئے حکومت  پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL)میں اضافہ کر سکتی ہے۔’’حکومتی اندازوں کے مطابق پی ڈی ایل میں اضافے سے 80 ارب روپے سے 100 ارب تک آمدن ہو سکتی ہے۔‘‘

مالی سال 2019-20ء کے پہلے سات ماہ کے دوران ایف بی آر اپنے نظر ثانی شدہ ہدف 2509 ارب روپے کی بجائے2406 ارب روپے ہی جمع کر سکا ہے۔

تاہم دوسری جانب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم نے  آئی ایم ایف کے وفد پر واضح کیا ہے کہ مزید کسی قسم کے ٹیکس عائد کیے جائیں گے نہ گیس کی قیمتیں مزید بڑھائی جائیں گی اور نہ ہی منی بجٹ پیش کیا جائیگابلکہ کچھ اثاثوں کی نجکاری کرکے نان ٹیکس آمدن حاصل کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here