اردگان کا دورہ پاکستان، 34 ترک کمپنیوں کی آمد متوقع، سرمایہ کاری کے متعدد معاہدے طے پانے کا امکان

کوکا کولا بیورجز، ترکش ائیرلائنز، اوزپاک جے وی ، البیراک گروپ کے نمائندے شامل ہونگے، ذرائع ، دونوں ممالک تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک بڑھا سکتے ہیں، افتخار علی ملک

203

لاہور : ترکی کے  صدر رجب طیب اردگان رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے اور ان کے ہمراہ ترکی کی 34 بڑی کمپنیوں اور کاروباری اداروں کے نمائندے بھی پاکستان آئیں گے۔ دونوں ممالک تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک بڑھا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور ترکی دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متعدد معاہدوں پر دستخط کریں گے جبکہ کئی ترک کمپنیاں اس سے قبل ہی پاکستان میں مختلف شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی کا اظہار کر چکی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ترک صدر کے وفد میں کوکا کولا بیورجز، ترکش ائیرلائنز، اوزپاک جے وی ، البیراک گروپ کے نمائندے بھی شامل ہونگے۔

پنجاب کے محکمہ صنعت و تجارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ 2018 ءمیں ترکی پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین کی سربراہی میں 16 کمپنیوں کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا جن کے ساتھ صوبائی حکومت اور پنجاب سرمایہ کاری بورڈ نے دو طرفہ تجارتی و معاشی تعلقات کو فروغ دینے کیلئے مذکرات کیے تھے ۔ یہی کمپنیاں اب دوبارہ ترک صدر کے ہمراہ پاکستان آ رہی ہیں تاکہ دو طرفہ تجارت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا یا جا سکے۔

]پرافٹ اردو سے بات کرتے ہوئے پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (پی بی آئی ٹی)کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) محمد ہارون شوکت ،جو ترکی میں پاکستان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں، نے کہا کہ صدر اردگان کا حالیہ دورہ پاکستان کیلئے سرمایہ کاری حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے ۔ ترکی کی پانچ چھ بڑی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ، ’’ کوکاکولا بیورجز پاکستان میں چھ سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرچکی ہے اور ملتان اور فیصل آباد میں دو فیکٹریاں بھی لگائی ہیں۔ ‘‘

ہارون شوکت نے کہا کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، کئی چینی کمپنیاں اپنی فیکٹریاں لگا رہی ہیں ، اسی طرح ترک کمپنیاں بھی پاکستان میں اپنے پیداواری پلانٹ لگانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔

ایک سوال پر پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ فاطمہ خان نے کہا کہ کئی ترک سرمایہ کار پہلے ہی پنجاب میں کام کر رہے ہیں، اس لیے ہماری کوشش ہو گی کہ پاکستانی کاروباری افراد کو زیادہ سے زیادہ موقع دیں کہ وہ ترک سرمایہ کاروں کیساتھ مشترکہ منصوبوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کرسکیں۔

دوسری جانب سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستانی بزنس کمیونٹی نے صدر اردگان کے دورہ پاکستان کو دوطرفہ کاروبار ی مواقع اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی سرکاری اور نجی شعبے میں تجارتی حجم 2ارب ڈالر تک بڑھا سکتے ہیں۔

بدھ کو ترک تاجروں کے ایک وفد سےملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے یونائٹڈ بزنس گروپ کے سربراہ افتخار علی ملک نے کہا کہ پاکستانی انٹرپرینیورز تعمیرات، ٹیکسٹائل، آئی ٹی ،  کارپٹ اور پلاسٹک اندسٹری میں ترک کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ دونوں ملکوں کے تجارتی وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تجارتی  حجم میں 1980 کے بعد بالکل منجمد ہے، ترکی کی برآمدات 169 ارب ڈالر جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 24 ارب ڈالر سالانہ ہیں جنہیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here