سام سنگ ایپل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار، چوکور شکل کے فولڈ ایبل موبائل فونز متعارف کروا دیئے

57

سیول: سامنگ سنگ الیکٹرانکس نئے،چوکور شکل کے فولڈایبل سمارٹ فون اور اپنے بنیادی گلیکسی ایس سیریز کے تجدید شدہ ورژنز کو متعارف کروانے کے لیے تیار ہے تاکہ فروخت کے حجم کو ازسرِ نو بڑھایا جا سکے کیوں کہ گزشتہ سہ ماہی کے دوران ایپل انکارپوریٹڈ سام سنگ پر بازی لے جانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

سان فرانسسکو میں تقریب کے انعقاد سے قبل سام سنگ نے حیران کن طور پر امریکی ٹیلی ویژن پر اشتہار میں نئے چوکور فونز کی پہلی رونمائی کروائی جو فلپ فونز کی طرح فولڈ ہو جاتے ہیں اور ایکسٹریئر پر نوٹیفیکیشن پینل نصب کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایک سال میں سب سے زیادہ سمارٹ فونز کی فروخت، ایپل نے سام سنگ کو پیچھے چھوڑ دیا

ذرائع اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ گلیکسی زیڈ فلپ کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ 1,980 ڈالر کے گلیکسی فولڈ کے وزنی موبائل سے سستا ہو گا جو کتاب کی طرح کھلتا ہے کیوں کہ اس کی سکرین کا سائز کسی حد تک زیادہ ٹھوس ہے۔

اگرچہ جنوبی کوریائی کمپنی یہ امید کر رہی ہے کہ نیا ہینڈ سیٹ اس کی اختراع سازی کے عمل کو مزید بڑھائے گا جس کے باعث صارفین یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہوں گے کہ آیا سام سنگ ٹیکنالوجی سے متعلقہ چیلنجوں اور سکرین کے نقائص پر قابو پاتا ہے یا نہیں جس کے باعث گزشتہ برس گلیکسی فولڈ کی لانچنگ میں تاخیر ہوئی۔

سٹریٹیجی انالیٹکس سے منسلک اینالسٹ انیل ماسٹن کہتے ہیں، فولڈ ایبل موبائل مہنگے ہی نہیں بلکہ ان کو مینوفیکچر کرنا بھی مشکل ہے۔ فولڈایبل موبائلز کو عوامی مارکیٹ کی پراڈکٹ بننے کے لیے کچھ وقت درکار ہو گا اور وہ 2022 یا 2023 میں اس کے قبولِ عام حاصل کرنے کی امید کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، اس وقت فولڈایبل موبائلز سپر پریمئم پراڈکٹ ہے جو سام سنگ برانڈ کے لیے منافعوں کا باعث  بن سکتا ہے یا یہ کوئی اثر مرتب کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: سام سنگ کا پہلا 5 جی اسمارٹ فون پیش کردیا گیا

انڈسٹری سے منسلک حکام اور تجزیہ کار کہتے ہیں، فولڈایبل موبائل کی محدود صلاحیت اور اہلیت کے باعث سام سنگ کی فولڈ ابیل موبائل کی پیداوار جلد از جلد بڑھانے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

اس معاملے سے واقفیت رکھنے والے ایک شخص نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا، رواں سال زیادہ سے زیادہ پانچ ملین یونٹ فروخت ہوئے ہیں یا یہ تعداد 2019 میں سام سنگ کے فروخت ہونے والے مجموعی موبائل فونز کی نسبت دو فی صد کم ہے۔

سام سنگ نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ادارہ کائونٹر پوائنٹ ریسرچ کہتا ہے، سام سنگ کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ گلیکسی ایس پریمئم سمارٹ فونز کے تین ماڈل لانچ کرنے جا رہا ہے، جن کی فروخت کے بارے میں یہ امید کی جارہی ہے کہ اس کی فروخت پیشرو ماڈلز سے بڑھ جائے گی، اور اسے مسابقتی قیمت اور طاقت ور کیمروں کے باعث فائدہ حاصل ہو گا۔

سٹریٹیجی انالیٹکس کے مطابق، سام سانگ نے دسمبر کی سہ  ماہی میں نمبر ایک سمارٹ فونز کی پوزیشن کھو دی تھی کیوں کہ کم قیمت آئی فون 11 کی قیمت کے باعث امریکی کمپنی نے 2015 کے بعد تیزی سے ترقی کی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں، چین میں اگرچہ کورونا وائزس کی وبا کے باعث گلوبل سپلائی چین کا نظام متاثر ہوا ہے اور سمارٹ فونز کی پیداوار متاثر ہوئی ہے لیکن جنوبی کوریائی ادارہ بڑے پیداواری اداروں میں سب سے کم متاثر ہوا ہے کیوں کہ اس کا بنیادی مینوفیکچرنک یونٹ ویت نام میں قائم ہے۔

تحقیقی ادارے ٹرینڈ فورس نے پیش گوئی کی ہے کہ سمارٹ فونز کی پیداوار میں پہلی سہ ماہی کے دوران عالمی سطح پر 12 فی صد کمی آئے گی جو پانچ برسوں میں کم ترین سطح ہے لیکن انداوں کے مطابق، سام سنگ نے اپنی پیداوار میں تین فی صد کمی کی ہے۔

آج ہونے والے لانچ ایونٹ میں سام سنگ کے موبائل یونٹ کے سربراہ روہ تائی مون پہلی بار عوام میں نظر آئیں گے جو قبل ازیں کمپنی کے ایس رینج ماڈل کے موبائلز اور چینی کنٹریکٹ مینوفیکچررز کے لیے سستے فونز بناتے رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here