زرعی شعبے اور صنعتوں کو ٹیکس کے بغیر گیس فراہم کی جانی چاہئے، سپریم کورٹ

95

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ زرعی شعبے اور صنعتوں کو ٹیکس کے بغیر گیس فراہم کی جانی چاہئے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں ایپکس کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی جس کے دیگر دو ارکان میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس منصور علی شاہ شامل تھے۔

سماعت کے دوران ایک نجی کمپنی کے وکیل ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مختلف منصوبوں کی تکمیل کے لیے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی ڈی آئی سی) نافذ کیا تھا۔

انہوں نے کہا، یہ رقم جس مقصد کے لیے جمع کی گئی، اس مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے موبائل فون کارڈ پر تمام ٹیکس بحال کر دیئے

انہوں نے کہا، پشاور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سیس سے قوم کو فائدہ ہو گا۔ سیس سے حاصل ہونے والی رقم محض تین منصوبوں پر خرچ ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا، حکومت نے اس مد میں 295 ارب روپے جمع کیے ہیں۔

ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے کہا، پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پابندیوں کے باعث رُک چکا ہے اور پاکستان پہلے ہی ٹاپی منصوبے کے لیے اپنا حصہ ادا کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا، حکومت نے 295 ارب روپے میں سے محض 487 ملین روپے خرچ کیے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ایل این جی پر سیس فنڈ سے ایک پائی بھی خرچ نہیں کی گئی اور نجی کمپنیوں نے خود ایل این جی ٹرمینلز قائم کیے ہیں۔

ایڈووکیٹ مخدوم علی خان کا کہنا تھا، پشاور ہائی کورٹ نے حقائق مدِنظر نہیں رکھے۔ انہوں نے مزید کہا، پشاور ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ وفاقی حکومت اور اس کے ادارے ہی اس ایکٹ کو چیلنج کر سکتے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا، کیا پاکستان پابندیاں عائد کرنے کی بجائے اپنے طور پر مفید منصوبے شروع نہیں کر سکتا؟ انہوں نے مزید کہا، شوگر ملوں سے سڑکوں کی تعمیر کے لیے الگ سے چارجز وصول کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا کاروبار کے فروغ کے لیے 50 ٹیکسوں کو ختم کرنے کا فیصلہ

جسٹس فیصل عرب نے وکیل سے پوچھا کہ وہ کورٹ کو آگاہ کریں کہ آیا کہ یہ ٹیکس ہے یا سیس؟ ایڈووکیٹ مخدوم علی خان نے کہا، ان کے خیال میں یہ ٹیکس نہیں تھا۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ زراعت اور دیگر انڈسٹریز کو ٹیکس کے بغیر گیس فراہم کی جانی چاہئے۔

انہوں نے کہا، کیا انڈسٹری گیس کی سہولت نہیں چاہتی تھی؟ انہوں نے استفسار کیا، ایل این جی کو اس سیس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا جس کی ترسیل بحری جہازوں کے ذریعے عمل میں آتی ہے اور اس حوالے سے خصوصی ٹرمینلز بنائے گئے ہیں؟

عدالت نے کیس پر سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here