الیکٹرونک ڈیٹا کے تبادلہ کے لیے پاکستان اور ایران کے معاہدہ  پر دستخط

دونوں ملکوں کے تاجروں کو دستاویزات کی بروقت اورخود کار تصدیق کرانے ،مصنوعات کی قیمتیں اور معیار جاننے میں مدد ملے گی اور غیر قانونی تجارت کا خاتمہ ہو سکے گا

192

اسلام آباد: الیکٹرونک ڈیٹا کے تبادلہ کیلئے فیڈرل بورڈ  آف ریونیو (ایف بی آر) اور ایران کسٹمز کے مابین باہمی یادداشت کا معاہدہ (ایم او یو) طے پا گیاجس سے پا کستان اور ایران کی باہمی تجارت کے لیے دونوں ملکوں کے تاجروں کو دستاویزات کی بروقت اورخود کار تصدیق کرانے ،مصنوعات کی قیمتیں اور معیار جاننے میں مدد ملے گی اور غیر قانونی تجارت کا خاتمہ ہو سکے گا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 10 فروری کو قائم مقام چیئرمین نوشین جاوید کی موجودگی میں ایف بی  آر کی جانب سے ممبر (کسٹمز پالیسی اینڈ آپریشنز )محمد جاوید غنی نے  جبکہ ایران کی جانب سے ایران کسٹمز کے ڈیپارٹمنٹ آف آئی ٹی ڈائریکٹر جنرل حائدہ باگیری پور نے معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:برآمدات میں کمی کیوں ہوئی؟ وزارت کامرس کی دیگر وزارتوں ، ایف بی آر کیخلاف وزیراعظم کو شکایتیں

اس سے قبل پاکستان اور ایران کسٹمز میوچل اسسٹنس ایگریمنٹ پر 4 مارچ 2004ء کو دستخط کرچکے ہیں ،یہ بھی پا چکا تھا کہ پاکستان کسٹمز اور ایران کسٹمز الیکٹرانک ڈیٹا کے تبادلہ کیلئے بھی ایک معاہدہ کریں گے۔ اب  اسی معاہدے کی روشنی میں پاکستان کے تجارتی مفادات کے تحفظ کیلئے مختلف جہتوں پر پیشرفت کی ضرورت محسوس کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:ایران سے تیل کی اسمگلنگ سے پاکستان کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان

اس سلسلے میں پاکستان کسٹمز اور ایران کسٹمز حکام کے مابین گزشتہ سال 18 سے 20 فروری  اور پھر 16 تا17 اکتوبر مذاکرات کے ہوئے اور دونوں ممالک جن نکات پر متفق ہوئے ان میں تفتان بارڈر پر ایک خود کار نظام لگایا جائیگا جس کے ذریعے دو طرفہ تجارت سے متعلق دستاویزات اور مسافروں کی تفصیلات کا بروقت ایک دوسرے سے تبادلہ کیا جائے گا۔ مصنوعات کی کوالٹی ، قیمت اور دیگر تفصیلات کا بھی بروقت علم خودکار نظام کے ذریعے ہو سکے گا۔

اس موقع پر قائم مقام چئیرمین ایف بی آر نوشین جاوید نے کہا کہ معاہدے سے دونوں ممالک کی تجارت کو فائدہ پہنچے گا، قیمتوں کے ٹھیک تعین کی وجہ سے دونوں ممالک زیادہ زرمبادلہ بھی کما سکیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here