آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی انسائیڈر ٹریڈنگ میں ملوث نہیں: ایس ای سی پی

انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات سامنے آنے پر 22 جنوری کو او جی ڈی سی ایل کے شئیرز کی تجارت سے متعلق ڈیٹا، ٹریڈرز، پرافٹ میکرز ، انویسٹرز اور بروکر ہائوسز کی تحقیقات کی گئیں: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان

232

اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے شئیرز میں  انسائیڈر ٹریڈنگ نہیں پائی گئی۔

کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی نجکاری کی افواہوں اور شئیرز کے حوالے سے انسائیڈر ٹریڈنگ کے الزامات سامنے آنے پر 22 جنوری 2020ء کو تحقیقات کی گئیں اور اسکے شئیرز کی تجارت سے متعلق ڈیٹا،اسکے ٹریڈرز، پرافٹ میکرز اور کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنے والے انویسٹرز اور بروکر ہائوسز کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کی او جی ڈی سی ایل کے 7 فیصد شئیرز ملائیشیا کو فروخت کرنے کی تیاری مکمل

ایس ای سی پی کے مطابق تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ او جی ڈی سی ایل کے شئیرز کی فروخت کے مجموعی حجم میں انفرادی فنڈز کا حصہ 38 فیصد جبکہ میوچل فنڈز 24 فیصد تھا جبکہ شئیرز کی خریداری میں انفرادی فنڈز کا حصہ 49 فیصد جبکہ میوچل بروکرز کا 24 فیصد تھا اور مجموعی طور پر 10 ٹریڈرز نے 1.7 ملین روپے کا منافع کمایا۔

یہ بھی پڑھیں:ایس ای سی پی کو سٹاک بروکر، بروکریج ہاؤسز سے متعلق نئی پالیسی پر نظر ثانی کا حکم

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق او جی ڈی سی ایل کے ٹریڈنگ کے طریقہ کار میں کسی قسم کی غیر قانونی بات، دھوکا دہی، یا انسائیڈر ٹریڈنگ نہیں پائی گئی۔

ریگولیٹر نے مزید کہا ہے کہ وہ کیپیٹل مارکیٹ میں شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اور اس حوالے سے نگرانی کا عمل مزید موثر بناتے ہوئے کسی قسم کے غیر قانونی اقدام کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here