2019 پولٹری کی صنعت کے لیے بدترین سال رہا، پی پی اے کے سابق سربراہ عبدالباسط

326

لاہور: پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ایک سابق عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ 2019 پولٹری انڈسٹری کے لیے بدترین سال ثابت ہوا ہے اور پیداوار پر اٹھنے والی غیر معمولی لاگت کے باعث ہونے والے نقصانات نے گزشتہ 30 برس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ عبدالباسط نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولٹری فیڈ کی قیمت نے گزشتہ 10 برسوں کا ریکارڈ توڑا ہے جس کی وجہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، مارک اَپ ریٹ میں ریکارڈ اضافہ اور بجلی اور گیس کے ٹیرف بڑھنے کے باعث 50 کلوگرام فیڈ کی قیمت تین ہزار روپے ہو گئی ہے جو اس سے قبل 22 سو روپے تھی۔

انہوں نے یہ انکشاف کیا کہ پورے سال کے دوران پولٹری مصنوعات کی فروخت کی قیمت پیداوار پر اٹھنے والی لاگت سے کم سے کم ایک سے دو روپے زیادہ رہی جو کاروبار کی بقا کے لیے ضروری تھا۔ انہوں نے مزید کہا، تاہم، 2009 گزشتہ 30 برسوں کے دوران پولٹری کی صنعت کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا ہے جس کے باعث اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا، پولٹری سیکٹر کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ پیداوار پر آنے والی لاگت میں اضافے کا بوجھ صارفین پر ڈالتی۔ اس کے بجائے انڈسٹری نے ٹیکنالوجی میں ترقی کے ذریعے اپنی صلاحیت کو بہتر بنایا اور یوں صنعت کی بقا ممکن ہوپائی۔

مزید پڑھیں: عالمی کمپنی کارگل کا پاکستان میں 200 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

انہوں نے کہا،پولٹری مصنوعات سال کے آٹھ ماہ کے دوران اصل قیمت سے کم پر فروخت کی جاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کہ بقیہ چار مہینوں کے دوران چکن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو انڈسٹری سال بھر کے دوران ہونے والے اپنے نقصانات کا ازالہ کرنے کے قابل ہوئی۔

عبدالباسط نے کہا، حکومت نے فیول یا بجلی کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے بجائے پولٹری فارمز کے خلاف ایک بے بنیاد پروپیگنڈا شروع کر دیا جنہوں نے ملک میں افراطِ زر کو بڑھنے سے روکنے کے لیے نمایاں کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران پولٹری کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوا جب کہ اس عرصہ میں کچن مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس، پاکستان نے جانوروں اور پرندوں کی درآمد پر پابندی لگا دی

ان کا کہنا تھا، فارمرز، جن میں پولٹری کے فارمرز بھی شامل ہیں، وہ اپنی مصنوعات کا ریٹ متعین کرنے کے قابل نہیں ہیں کیوں کہ اس کا انحصار پیداوار پر آنے والی لاگت پر ہوتا ہے اور وہ مکمل طور پر منڈی کی قوتوں پر انحصار کر رہے ہوتے ہیں۔

عبدالباسط نے مزید کہا، پیداوار میں لاگت میں ریکارڈ اضافے کے علاوہ کنٹرولڈ شیڈز میں منتظم نہ کیے جانے کے قابل وینٹی لیشن سسٹم کے باعث موسم سرما میں بھی جب پولٹری کا مکمل سٹاک تباہ ہوسکتا تھا، اس قت قریباً 25 فی صد پولٹری فارمرز نے اپنا کاروبار وقتی طور پر بند کر دیا۔

انہوں نے کہا، ان وجوہ کے باعث پولٹری کے سٹاک میں نمایاں کمی آئی  جس کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ کرنسی کی  قدر میں کمی اور درآمد شدہ سویابین اور ادویات کے استعمال کے باعث کاروبار کرنے کی لاگت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here