پاکستان اور افریقہ میں دوطرفہ تجارت کو آٹھ ارب ڈالر تک لے جانے کی صلاحیت موجود ہے، سیکرٹری کامرس

231

اسلام آباد: سیکرٹری کامرس احمد نواز سکھیرا نے کہا ہے، پاکستان افریقن ریجن کے ساتھ اپنی تجارت کا حجم چار ارب ڈالر سے بڑھا کر آٹھ ارب ڈالر کرنا چاہتا ہے جس کے لیے خطے میں موجود امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا، حکومت تمام ترجیحی شعبہ جات میں مصنوعات کی پیداوار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ نئی منڈیوں سے فائدہ حاصل کیا جا سکے اور ملکی ایکسپورٹس کا اضافہ ممکن ہو سکے۔

انہوں نے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا، پاک افریقہ تجارت ممکنہ ہدف سے نہایت کم ہے۔ اطراف طویل المدتی شراکت داری قائم کرنے کے خواہاں ہیں جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان اور افریقی ملکوں کے درمیان بنکنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے شعبوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان براعظم افریقہ کو اپنی درآمدات کیلئے ایتھوپیا کو ’گیٹ وے‘ بنانا چاہتا ہے: مشیر تجارت

سیکرٹری کامرس نے کہا، پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے کیوں کہ ملک نے گزشتہ ایک برس کے دوران نمایاں فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

سیکرٹری کامرس نے حال ہی میں کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ہونے والی تجارتی کانفرنس میں شرکت کی ہے، انہوں نے کہا، کینین صدر اوہورو کینیاتا نے پاکستان افریقہ ٹریڈ دویلپمنٹ کانفرنس 2020 سے خطاب کیا جس میں کینیا کی وزارت کامرس اور ایسٹ افریقن ایسوسی ایشن کے حکام نے بھی شرکت کی۔

احمد نواز سکھیرا نے کہا کہ پاکستانی اور افریقی کمپنیوں کے درمیان کانفرنس سے ہٹ کر ایک ہزار سے زیادہ بزنس ٹو بزنس میٹنگز ہوئیں۔ انہوں نے کہا، اس موقع پر چاولوں، کھیلوں کے سامان، فارسیوٹیکل مصنوعات اور پنکھوں کے ایکسپورٹرز نے بزنس ٹو بزنس جب کہ حکومتی وفود میں بھی میٹنگز ہوئیں۔

انہوں نے مزید کہا، حکومت سٹریٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک پر کام کر رہی ہے تاکہ منڈی کے نئے رجحانات کے مطابق تجارتی حکمتِ عملیوں کو تبدیل کیا جائے اور پاکستانی برآمدات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا، حکومت نے مختلف خطوں جیسا کہ افریقہ اور شمالی امریکا پر توجہ مرکوز کی ہے جس کا مقصد ان خطوں کے ساتھ معاشی اور کاروباری تعاون کا فروغ ہے۔

انہوں نے کہا، ہم ای کامرس کو بھی فروغ دینا چاہتے ہیں تاکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

مزید پڑھیں: کینیا کا پاکستان سے اگلے سیزن میں آم اور کنو درآمد کرنے پر غور

احمد نواز سکھیرا نے حکومتی کامیابیوں کے تناظر میں آگاہ کیا کہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے دوسرے معاہدے کو حتمی شکل دی جا چکی ہے، افریقن اور روسی منڈیوں کی تلاش جاری ہے اور یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا آخری جائزہ حکومت کی بنیادی کامیابیاں ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here