وزیر اعظم کا وزارتوں ، ڈویژنوں کو پرانی مشینری، گاڑیاں ،فرنیچر نیلام کرنے کا حکم، اربوں کی آمدنی کی توقع

پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ  کی جانب سے خالی  آسامیاں 120 دنوں میں پُر کرنے،مختلف محکموں میں سنیارٹی  کا زیر التواء عمل اور انکوائریاں جلد از جلد نمٹانے کا بھی حکم دیا گیا ہے

256

اسلام آباد: وزیر اعظم آفس کی جانب سے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پرانی مشینری ، گاڑیاں اور ناقابل استعمال فرنیچر کو تین ماہ  کے اندر نیلامی کیلئے پیش کریں۔

پرافٹ اردو کے پاس موجود دستاویزات کے مطابق مذکورہ احکامات پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ کی جاری کیے ہیں۔

محکمہ کسٹمز کے حکام کے مطابق سینکڑوں قیمتی ضبط شدہ گاڑیاں موجود ہیں جن کی نیلامی سے حکومت کو اربوں کی آمدن ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے ملک بھر میں بے نامی جائیدادوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا

ذرائع کے مطابق چونکہ تفتیشی افسران انکوائری مکمل کرنے میں مہینوں لگا دیتے ہیں اس لے وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں میں درجنوں انکوائریاں زیر التواء ہیں، اس لیے محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی سطح کی زیر التواء انکوائریز کو بھی تین ماہ میں منطقی انجام تک پہنچا کر اس حوالے سے متعلقہ حکام کو رپورٹ جمع کرائی جائے۔

پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ نے یہ بھی حکم جاری کیا ہے کہ مختلف وزارتوں اور دویژنوں میں خالی عہدوں پر بھرتیوں کا عمل 60 دنوں میں مکمل کیا جائے اور بھرتیوں کے طریقہ کار کو جہاں ضرورت ہو اپ ڈیٹ کیا جائے۔

یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ مختلف عہدوں پر ایک سال سے غیر حاضر ملازمین سے استعفے  طلب کیے جائیں اور اس عمل کو 45 دنوں میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔

یہ بھی پرھیں: سرکاری اخراجات میں کمی، گاڑیوں کی خرید پر پابندی

اسکے علاوہ تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو سنیارٹی  کے زیر التواء عمل کو بھی جلد از جلد حتمی شکل  دینے اور طویل عرصے سے ترقی کا انتظار کرتے افسروں (ماسوائے جن کے کیسز عدالتوں یا ٹربیونلز میں زیر سماعت ہیں)کے مسائل 60 دنوں میں حل کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

پرائم منسٹر ڈلیوری یونٹ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام وزارتیں اور ڈویژنز خالی آسامیوں پر بھرتیوں کے لئے 30دنوں کے اندر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو درخواست بھیجیں اور 120 دنوں کے اندر بھرتیوں کا عمل مکمل کریں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا اقدامات کی تکمیل ٹاسک مینجمنٹ سسٹم (TMS) کے ذریعے سرانجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here