جہانگیر ترین آٹا بحران میں ملوث نہیں، مشیر خزانہ ، گورنر سٹیٹ بینک کو تبدیل نہیں کیا جا رہا: وزیر اعظم

شبرزیدی میری درخواست پر چھ ماہ کیلئے آئے تھے: عمران خان کا حکومتی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب، کم آمدنی والوں کے لیے 15 ارب روپےکی سبسڈی کا فیصلہ 

133

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کو عہدوں سے ہٹانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خبروں میں صداقت نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین آٹا بحران میں ملوث نہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس ہوا  جس میں پاکستان کی سیاسی و اقتصادی صورتحال پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے شرکاء پر واضح کیا کہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بینک کو تبدیل نہیں کیا جا رہا اور دونوں ہی بہترین کام کر رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے ترجمانوں کو بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی انکی درخواست پر چھ ماہ کیلئے آئے تھے، اب وہ شدید بیمار ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ گندم اور آٹا بحران کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیراعظم نے پارٹی کو منظم اور متحد رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جہانگیر ترین کا حالیہ آٹا بحران میں کوئی کردار نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کی جانب سے مطالبہ کیاگیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دائیں اور بائیں بیٹھے دو لوگ (جہانگیر ترین اور خسرو بختیار ) چینی بحران کے ذمہ دار ہیں اور انکی ملوں کی تلاشی لی جانی چاہیے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف دینے اور انکوائری کا ڈرامہ کرکے بیوقوف بنانے کی بجائے آٹا چوراورچینی چور مافیا کی سرپرستی پروزیراعظم کیخلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

 غریبوں کو ریلیف دینے کیلئے ہر حد تک جائیں گے: عمران خان

قبل ازیں غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف دینے کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ غریب عوام کی تکالیف پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی، غریب اور تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت ہر حد تک جائیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

وزیراعظم کے میڈیا آفس کے مطابق اجلاس میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، چیئرمین یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن ذوالفقار علی خان، وزارتِ خزانہ، صنعت و پیداوار اور سماجی تحفظ ڈویژن کے وفاقی سیکرٹریز، ایم ڈی یوٹیلٹی سٹور اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں غریب اور تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ سستے نرخوں پر فراہمی کے حوالے سے اقدامات پر غور کیا گیا۔

عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی جانب سے لیے گئے بڑے فیصلوں کا اعلان کابینہ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

 وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری اولین ترجیح عوام بالخصوص غریب اور تنخواہ دار طبقہ ہے جس کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے حکومت ہر حد تک جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ غریب عوام کی تکالیف پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔

کم آمدنی والوں کے لیے 15 ارب روپےکی سبسڈی کا فیصلہ 

ایک نجی ٹی وی چینل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وفاقی حکومت نے کم آمدنی والے طبقے کو 15 ارب روپےکی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کےلیے یوٹیلٹی اسٹورز کو 15 ارب کا پیکیج دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحقین کو راشن کارڈز دیے جائیں گے اور یوٹیلٹی اسٹورز کو اشیائے خوردونوش کی فراہمی بڑھائی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ اس سلسلے میں ای سی سی کے لیے سمریز جلد بنانے کی ہدایت کی گئی ہے جس کی کابینہ سے حتمی منظوری لی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here