یہ ان دنوں کی بات ہے جب ناوین قریشی نے ٹورنٹو سے نیویارک سٹی کے لیے رختِ سفر باندھا تاکہ بہترین ساکھ کے حامل کولمبیا بزنس سکول میں داخلہ حاصل کر سکے، وہ نیویارک میں تنہا تھی۔ کینیڈین کریڈٹ ہسٹری، بنک اکائونٹس اور اپنے نام پر اثاثے موجود ہونے کے باوجود امریکی معاشی نظام اس طرح سے پوشیدہ تھا کہ اس کی تمام عملیت پسندی بے وقعت ہو گئی تھی۔

ناوین کی کوئی کریڈٹ ہسٹری نہیں تھی اور وہ سکوائر ون پر کھڑی تھی۔ کولمبیا میں ہی اس کی ملاقات آندریج پائولے سے ہوئی جو ایک یورپین طالب علم تھا اور اس کا بھی امریکی بنکوں کے حوالے سے تجربہ ایسا ہی پریشان کن تھی اور وہ دونوں کریڈٹ کارڈ کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ دونوں میں دوستی ہو گئی، ان دونوں نے یہ ادراک کیا کہ وہ دونوں اب بھی پرانے کریڈٹ کارڈ استعمال کر رہے ہیں اور نئے کریڈٹ کارڈز کا حصول بہ ظاہر ناممکن ہے۔

یہ وہ مرحلہ تھا جب (سیبل)  Sable تخلیق کرنے کے لیے پہلی بار سوچ بچار کیا گیا۔ ناوین اور آندریج دنیا میں بہترین تعلیم کے حصول کے لیے امریکا آئے تھے، ان دونوں کا خواب اپنی زندگیاں بہتر بنانا تھا۔ آپ جب کسی اجنبی ملک کا رُخ کرتے ہیں تو آپ کے اردگرد بہت کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔ نئے ملک سے خود کو ہم آہنگ کرنے کے لیے وقت، دولت، کوشش، کنفیوژن اور غالباً کچھ راتیں چاہئے ہوتی ہیں جن میں ایک فرد یہ سوچ سکے کہ یہ سب کرنے کی کوئی اہمیت ہے یا نہیں۔

اور ان تمام مسائل کے ساتھ جوجھتے ہوئے آپ پر امریکی بنکنگ کی ایک رکاوٹ کے بعد ایک اور رکاوٹ کا ادراک ہوتا ہے۔ تنخواہ کس طرح وصول کی جائے؟ یہ آپ کے لیے بہتر ہے کہ آپ اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ میں جا کر ان سے اپنی مشکل کے بارے میں بات کریں۔ اور بالاخر نیویارک سٹی میں رہائش کے لیے ایک بہتر اپارٹمنٹ کی تلاش کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ آپ کی چوں کہ کوئی کریڈٹ ہسٹری نہیں ہے جس کے باعث آپ کو اب بہت زیادہ سکیورٹی ڈیپازٹ جمع کروانا ہے۔ آپ کی پوسٹ پیڈ سیل فونز کے پیکیجز تک کوئی رسائی نہیں ہوتی، آپ جب پہلی بار امریکا آتے ہیں تو آپ کے لیے نیٹ فلیکس کی فیس ادا کرنا تک مشکل ہوتا ہے۔

 سیبل نے اپنی ویب سائٹ کے ابائوٹ اس (About Us) سیکشن میں لکھا ہے، بین الاقوامی شہری ہونے کے باعث ہمیں اپنے اکائونٹس کی مکمل خدمات کے حصول کے لیے اپنے مقامی بنکوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے جس کے بعد بے تحاشا دستاویزات دکھانی ہوتی ہیں۔ اس کے بعد اپنے کارڈز کے پوسٹ ہونے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یوں ہم اپنی کریڈٹ ہسٹری کا آغاز نئے سرے سے کرتے ہیں، 21 ویں صدی میں ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

اور وہ کچھ اس طرح اپنی کمپنی کی وضاحت کرتے ہیں جو امریکا میں آباد غیر ملکیوں کو بلامعاوضہ بنک اکائونٹس اور کریڈٹ کارڈز فراہم کرتی ہے۔ بنکنگ ہماری روزمرہ کی زندگیوں کا ایک اہم جزو بن چکی ہے اور بہت سی تبدیلیاں آ رہی ہیں، ان حالات میں سیبل اپنے صارفین کے لیے بنکنگ کو آسان بنانے کے لیے کوشاں ہے۔

ناوین قریشی

پرافٹ نے ناوین سے رابطہ کیا تاکہ سیبل کے تخلیق پانے کے پس پردہ کہانی سنی جا سکے کہ یہ تصور کس طرح پیدا ہوا اور اس حیران کن سٹارٹ اَپ کا مستقبل کیسا ہونے جا رہا ہے؟

کمرہ جماعت سے آغاز

ناوین کولمبیا میں داخلہ لینے سے قبل کینیڈا کے بنکوں میں کام کر چکی ہے جہاں اس نے معاشی صنعت میں پبلک کلائوڈز کے استعمال کو متعارف کروایا۔ ناوین نے کینیڈا میں کیپیٹل ون کے آن لائن بنکنگ اور کریڈٹ کارڈ بزنس کے شعبہ میں کام کیا جب کہ آندریج مکنسی میں کام کر چکے ہیں جو یورپ بھر کے بنکوں کے لیے معاشی ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات بناتا ہے۔ ان کی اپنے تیسرے شراکت دار ٹاورز ولن سے کولمبیا میں ہی ملاقات ہوئی، وہ ٹیم میں شامل واحد امریکی ہیں جنہوں نے نیویارک سٹی میں کمپنی امریکن ایکسپریس میں ایک دہائی تک کام کیا ہے، وہ کریڈٹ کارڈز کے پراڈکٹ اور بزنس ڈویلپمنٹ کے شعبہ سے منسلک تھے۔

حقیقت میں معاملہ یہ ہے کہ کمرہ جماعت کے دوران ان کے ذہن میں پہلی بار نیا کارڈ شروع کرنے کا خیال  آیا۔ ناوین اور آندریج سٹیون جی بلانک کی کلاس بعنوان Lean Launchpadلے رہے تھے، یہ ذکر کرنا بھی اہم ہے کہ سٹیون جی بلانک آٹھ بار کاروبار شروع کر چکے تھے اور اب ریٹائر ہونے کے بعد تدریس و تالیف کے شعبہ سے منسلک ہو گئے تھے اور یہ ان کا ہی اعزاز ہے کہ انہوں نے اس تصور کو شہرت دی کہ دنیا بھر میں کس طرح سٹارٹ اَپ قائم کیے جائیں اور کس طرح انٹراپرینیورشپ کا موضوع  پڑھایا جائے۔ یہ ایک مشکل نصاب تھا اور ایسا نصاب تھا جس سے سیبل کی ٹیم نے بہت کچھ سیکھا۔

نصاب میں یہ بھی شامل تھا کہ کس طرح نیا تصور پیش کرنا ہے اور فیلڈ ورک بھی اس کا حصہ تھا جس کے باعث وہ ایک ایئرپورٹ سے دوسرے ایئرپورٹ کا رخ کرتے اور سیاحوں کا انٹرویو کرتے، انہیں حاصل ہونے والی معلومات نے انہیں اس قدر اعتماد دیا اور ان کا یہ یقین پختہ ہوا کہ سیبل کی طرح کا سٹارٹ اَپ مارکیٹ کی ضرورت کے عین مطابق ہے۔

ناوین نے ان دنوں کو یاد کیا جب وہ آندریج کے ساتھ کلاس لیا کرتی تھی اور وضاحت کی، ہم نے جے ایف کے ایئرپورٹ، لاگارڈیا اور نیویارک ایئرپورٹ پر سینکڑوں لوگوں سے انٹرویو کیے۔ اور ہم ان سے عالمی سفر کرتے ہوئے ان سے ان کی ضروریات کے بارے میں سوال کیا کرتے۔ یہ ہمارا ابتدائی تصور تھا لیکن جلد ہی ہم پر یہ ادراک ہوا کہ سفر کرنے والے غیر ملکی ناصرف اپنے ہی ملک کے کریڈٹ کارڈز استعمال کرتے ہیں لیکن وہ اس وقت بھی اپنے ہی ملک کے کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں جب وہ امریکا میں ہوتے ہیں۔

وہ دونوں ناوین اور آندریج غیر ملکی ہونے کے باعث مشترکہ طور پر مشکلات کا شکار ہوئے جیسا کہ ناوین امریکا میں گزرے اپنے ایک سال کے دوران اپنا کینیڈین کارڈ استعمال کرتی رہی اور آندریج کے پاس محض ایک سکیورڈ کارڈ تھا جس میں اس نے تین سو ڈالر رکھ چھوڑے تھے، یہ اس کی زندگی کا پرمسرت لمحہ تھا۔

ناوین کہتی ہے، تمام تر خواہشوں اور مقاصد کے تحت ہم نے اپنے آئیڈیا کے لیے ہوائی اڈوں پر دوبدو 300 لوگوں کے انٹرویو کیے تھے۔ لیکن اس کے بعد، ہم نے مڑ کر نہیں دیکھا۔  ہم نے بزنس سکولز کا رُخ کرنا  شروع کر دیا، صارفین کے مسائل کا جائزہ لینے لگے، ٹارگٹ مارکیٹ کے حجم کے بارے میں جانا اور یہ معلوم ہوا کہ امریکا میں ہر برس کریڈٹ کی سہولیات حاصل کرنے کے اہل غیر ملکیوں کی تعداد 15 لاکھ  نئے صارفین پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور پھر ظاہر ہے، ہم نے ریونیو کے ذرائع اور قوانین کے بارے میں جاننے کی جانب توجہ دینا شروع کی اور بنکوں اور آلٹرنیٹ ڈیٹا سروس پرووائیڈرز کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا تاکہ  ان کی مدد حاصل کر سکیں

کمرہ جماعت سے عملی دنیا میں

ایک بار جب ان کو یہ یقین دہانی ہو گئی کہ ان کے پاس ایک بہترین آئیڈیا ہے، اس کے باوجود تین رُکنی سیبل ٹیم نے سٹارٹ اَپ سکول وائی کومبی نیٹر (Y Combinator) میں اپلائی کیا جس کی داخلہ دینے کی شرح ایک اعشاریہ پانچ فی صد ہے اور وہ ان فنڈز میں سے کچھ کاٹ لیتے اور باقی اپنے اختراح ساز نئے تصورات کے لیے رکھ لیتے۔ ناوین، آندریج اور ٹاورز کی ملاقات یہیں پر جوزف فن لیسن سے ہوئی جو آندریج کا دوست ہے اور اس کا پورٹ فولیو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے دنیا کے چند بڑے بنکوں کے لیے ڈیجیٹل ٹیمز بنائی ہیں اور کتوں کی ٹریکنگ کے لیے فٹ بٹ ایپ تخلیق کی ہے۔

ٹیم سیبل

یہ ٹیم اب چار ارکان پر مشتمل ہے، سیبل موسم سرما میں وائی کومبی نیٹر گئی اور اگست 2019 میں جب انہوں نے پائلٹ پیش کیا تو اسے باضابطہ طور پر لانچ کر دیا گیا۔ اکتوبر 2019 میں سٹارٹ اَپ کے لیے بنیادی سرمایہ حاصل کرنے کا عمل شروع ہوا جس کے بعد وہ کیلیفورنیا سے نیویارک آ گئے جہاں وہ اس  وقت اپنا کام کر رہے ہیں۔

یہ ایپ کس طرح کام کرتی ہے؟

اگر آپ غیر ملکی ہیں اور کچھ لمحات قبل ہی امریکہ پہنچے ہیں تو آپ اسے استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ کو کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے کے لیے سوشل سکیورٹی نمبر یا کریڈٹ ہسٹری کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کارڈ صرف امریکا میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کام کر سکتا ہے۔ آپ کو محض پاسپورٹ کی ضروت ہے اور اگر آپ امریکا پہنچے ہیں یا امریکا میں سفر کر رہے ہیں تو ظاہر ہے، آپ کے پاس پاسپورٹ کا ہونا ناگزیر ہے۔

ناوین وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے، سوشل سکیورٹی نمبر طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کون  سے قوانین ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنے صارف کی شناخت کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ اسے انگریزی زبان میں KYC یا Know your customer کہتے ہیں۔ اور جب آپ قوانین کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میں یہ درج ہے کہ آپ کو محض حکومت کی جانب سے جاری کی جانے والی آئی ڈی کی ضرورت ہے۔ قوانین یہ نہیں کہتے کہ یہ سوشل سکیورٹی نمبر ہی ہو۔

روایتی بنک اور فن ٹیک ان قوانین کی تشریح کچھ یوں کرتے ہیں کہ سوشل سکیورٹی نمبر کا ہونا ضروری ہے۔ سوشل سکیورٹی نمبر ایک منفرد نمبر ہے جو امریکی شہری پیدائش کے وقت حاصل کرتا ہے جس کے باعث بنکوں کے لیے ان کا استعمال نہایت آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم، یہ بنکاری کا کوئی قانون نہیں ہے کہ کریڈٹ کارڈ حاصل کرنے کے لیے اس کی ضرورت ہو۔ لیکن جب غیر ملکی امریکا کا رُخ کرتے ہیں تو ظاہر ہے، ان کے پاس ایسا کوئی نمبر نہیں ہوتا جس کے باعث وہ اپنے بنک کے لاتعداد چکر لگانے اور دستاویزات جمع کروانے کے بعد کریڈٹ کارڈ حاص کرنے اور اسے استعمال کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ سیبل ان لوگوں کی تصدیق کے لیے پاسپورٹ استعمال کرتی ہے جن کے پاس سوشل سکیورٹی نمبر نہیں ہوتا۔

وہ کہتی ہے، کریڈٹ ہسٹری کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ درپیش ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کریڈٹ کارڈ کمپنیاں اور بنک دراصل  کارڈ جاری کرنے کے تناظر میں ایسا اس لیے کرتی ہیں تاکہ وہ اپنے صارفین کا ان کا کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ کم کر سکیں۔ وہ دراصل ان کا FICO سکور اور کریڈٹ ہسٹری دیکھتے ہیں تاکہ یہ تعین کر سکیں کہ ان کو کس حد تک خطرہ ہو سکتا ہے اور ان کو کریڈٹ کے لیے کس طرح کا ضابطہ عمل تشکیل دینا چاہئے۔

اس نے مزید کہا، ایک غیر ملکی شہری ہونے کے باعث میری کوئی کریڈٹ ہسٹری نہیں ہے لیکن میری اپنے ملک میں برسہا برس کی کریڈٹ ہسٹری ہے۔ یا جیسا کہ آپ آگاہ ہیں، میرے اکائونٹس، اثاثے، ریٹائرمنٹ کی سیونگز، ٹیلکو بلز اور یوٹیلیٹی بلز ہو سکتے ہیں جس کے باعث میرے بارے میں خدشات کا جائزہ لینے میں مدد حاصل ہو سکتی ہے۔

روایتی بنک چناں چہ کسی بھی فرد کی کریڈٹ ہسٹری کو کچھ یوں دیکھتے ہیں جن کی کوئی کریڈٹ ہسٹری نہیں ہوتی۔ سیبل دراصل یہ ہے کہ ہم سینکڑوں مختلف متغیرات جیسا کہ آپ کے پیشے، آپ کی تعلیم، کمپنی میں آپ کے کردار، آپ کیا پڑھ رہے ہیں وغیرہ کا جائزہ لیتا ہے جب کہ متبادل اعداد و شمار کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔

روایت کے خلاف؟

 حقیقت میں معاملہ یہ ہے کہ وہ بنکنگ کی پریکٹسز کو نظرانداز کرنے جا رہے تھے جس سے ناوین یا سیبل کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا آزادانہ طرز عمل درحقیقت ان کے لیے مزید آزادیوں کا باعث بن رہا ہے کیوں کہ وہ طویل تاریخ اور روایات کے بوجھ تلے نہیں دبے تھے جو محتاط رہنے کے تصور کو فروغ دیتی ہیں۔ ٹیم سیبل بنکنگ کے حوالے سے اپنے تجربے کی وضاحت کرنا چاہتی ہے اور ناوین کہتی ہے، اس سے انہیں مدد ہی حاصل ہوئی ہے اور کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی۔

اس نے پرافٹ سے بات کرتے ہوئے کہا، ہم درحقیقت اپنے رسک کو صنعت کے معیارات سے کم رکھنے کے قابل ہو رہے تھے۔ ہمارا ماڈل سینکڑوں متغیرات پیش نظر رکھ  رہا ہے۔ ہم نے یہ سسٹم کیپیٹل ون کے ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ مل کر تخلیق کیا جن کا سب پرائم مارکیٹ میں 16 برسوں کا تجربہ ہے۔

اس نے مزید کہا، ہم بنیادی طور پر ماڈل کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں، اسے بہتر بنا رہے ہیں اور یہ نگرانی کر رہے ہیں کہ ہمارے صارفین اس سے کس طرح پیش آتے ہیں اور محض اپنے ذاتی ماڈلز میں بہتری لا رہے ہیں اور حاصل ہونے والی کریڈٹ لائن کی بنا پر اسے مزید بہتر بنا رہے ہیں۔

ایپ کو کس طرح سیٹ اَپ کیا جائے؟

اگر ناوین کے یقین کو پیش نظر رکھا جائے تو آپ پانچ منٹ میں سیبل کو ہر طرح کی تصدیق کے ساتھ سیٹ اَپ کر سکتے ہیں۔ ظاہر ہے کچھ ایسے لمحات ہوتے ہیں جب دستاویز اور کیسز کو زیادہ گہرائی سے دیکھنا ہوتا ہے اور اس کے لیے گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر حالات اس نوعیت کے ہوں تو 24 گھنٹے لگ جاتے ہیں لیکن اس دوران آپ بیش تر اوقات گھر میں رہ کر انتظار کرتے ہیں۔ تاہم، اگر اس وقت معاملات کو دیکھا جائے تو قریباً 85 فی صد اکائونٹس کی آن لائن تصدیق آسانی کے ساتھ پانچ منٹ میں ہو جاتی ہے۔

مثال کے طور پر اگر آپ پاکستانی ہیں جو حال ہی میں امریکا منتقل ہوئے ہیں یا امریکا منتقل ہونے جا رہے ہیں تو سیبل آپ سے تصدیق کے لیے آپ کا پاسپورٹ اور ویزا مانگے گا اور بعدازاں، آپ کا امریکا میں ایک پتہ ہونا چاہئے۔

ناوین نے نہایت فخر سے کہا، ہر چیز موبائل ایپ پر موجود ہے۔ آپ کا ورچوئل کارڈ بھی موبائل ایپ میں موجود ہے۔ اور آپ کو فزیکل کارڈ آپ کے پتے پر ارسال کیا جاتا ہے۔

ناوین نے موبائل ایپ استعمال کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، آپ جب موبائل ایپ کھولتے ہیں تو اس میں اپنی ذاتی معلومات کا اندراج کرتے ہیں، آپ اپنا ای میل آئی ڈی درج کرتے ہیں، پاس ورڈ تخلیق کرتے ہیں اور ایک اکائونٹ تخلیق کرتے ہیں اور اپنا پتہ درج کرتے ہیں جس کے بعد تصدیق کا مرحلہ آتا ہے۔ ہم تھرڈ پارٹی سروسز استعمال کر رہے ہیں، یہ فن ٹیکس کی جانب سے استعمال کی جانے والی جدید ترین سروسر جیساکہ جومیو ہے۔ یہ سروسز پاسپورٹ کو دیکھتی ہیں اور یہ یقینی بناتی ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی، یہ اصل پاسپورٹ ہی ہے اور اس کی فوٹوکاپی نہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔  یہ ٹیکنالوجی بنیادی طور پر مشین لرننگ کا استعمال کرتی ہے جو کروڑوں پاسپورٹس کی تصدیق کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور یوں یہ ڈیٹا کا تعین کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہی امریکی ویزوں کےلیے بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ چناں چہ ہم نے بنیادی طور پر بہترین کے وائی سی پرووائیڈرز کا انتخاب کیا ہے اور ظاہر ہے، ان پر آنے والی لاگت بھی غیر معمولی ہے لیکن ایک موبائل بنک ہونے کے باعث ہم نے یہ یقین دہانی کرنا ہوتی ہے کہ ہم اپنے صارفین کے بارے میں آگاہ ہوں اور کے وائی سی کے حوالے سے اپنی اندرونی اور بیرونی شرائط کو پورا کریں۔

آپ جیسے ہی سائن اَپ کرتے ہیں، آپ کے سامنے چیکنگ اکائونٹ موجود ہوتا ہے۔ یوں، کوئی بھی رقم کی ترسیل کے لیے آپ کے اکائونٹ کا استعمال کر سکتا ہے۔ ٹیم سیبل آنے والے ہفتوں کے دوران رقوم کی ترسیل کے لیے اضافی طریقے فراہم کرنے کی منصوبہ کر رہی ہے کیوں کہ امریکا میں الیکٹرانک طریقے سے رقم کی ترسیل مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

ناوین نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، ہم نے ٹرانسفروائز نامی سروس سے آغاز کیا جو آپ اپنے طور پر ویب سائٹ پر استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ہم اسے اپنی ایپ میں شامل کرنے کا عمل شروع کر چکے ہیں تاکہ صارف کو ایپ نہ چھوڑنی پڑے۔ اور آپ آنے والے ہفتوں میں اپنے اکائونٹ میں رقوم کی منتقلی کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کر سکتے ہیں۔

اگرچہ ایسا بہت کچھ ہے جو سیبل کو بنکنگ کے روایتی طریقہ کار سے مختلف بناتا ہے لیکن اس کے باوجود ان کا کاروباری ماڈل کئی حوالوں سے روایتی نوعیت کا ہے۔

سیبل میں ریونیو کا بہائو روایتی ہے جیسا کہ آپ امید کریں گے، سب سے پہلا مرحلہ انٹرچینج کا ہے۔ چناں چہ جب کوئی صارف ورچوئل یا فزیکل کارڈ کے ذریعے آن لائن یا آف لائن ٹرانزیکشن کرتا ہے تو سیبل اس میں سے کچھ رقم کاٹ لیتا ہے اور یہ ان کا ریونیو حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یہ اصول کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔

 ناوین وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہے، ریونیو کے حصول کا دوسرا بڑا ذریعہ اس رقم پر سود ہے جو آپ کریڈٹ کارڈ کو استعمال میں رکھنے کے لیے اس موجود رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ پانچ سو ڈالر خرچ کرتے ہیں اور چار سو ڈالر واپس کر دیتے ہیں تو آپ کو بقیہ بچ جانے والے 100 ڈالرز پر سود ادا کرنا پڑے گا۔ یہ ریونیو کے حصول کا دوسرا ذریعہ ہے جو صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ اور تیسرا آپ کے بنک اکائونٹ اور کریڈٹ کی ماہانہ فیس ہے۔

 اگرچہ سیبل نے کریڈٹ کارڈز پر اب تک ماہانہ فیس کی وصولی کا آغاز نہیں کیا، تاہم، وہ آنے والے مہینوں کے دوران ایک غیرمحفوظ ریوارڈ کارڈ پیش کرنے جا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صارف سے کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے پر ماہانہ فیس وصول کی جائے گی۔ لیکن فی الحال بنک اکائونٹ بلامعاوضہ ہے اور ناوین کہتی ہے کہ وہ اس حوالے سے کوئی تبدیلی لانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

تاہم، ایک نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ یہ تمام خدمات نہایت کم قیمت ہیں۔ ناوین کہتی ہے، ہم اے ٹی ایم سے رقوم نکلوانے پر کوئی رقم چارج نہیں کرتے۔ ہماری اے پی آر (Anti-Predatory Lending) روایتی بنکوں سے کم ہے اور بھیجی جانے والی رقم پر کچھ چارج نہیں کرتے جب کہ بنک بھیجی جانے والی رقم پر اوسطاً 35 ڈالر تک چارج کر سکتے ہیں۔ یہ پاگل پن ہے۔ اور بنک اوسط رقوم کی ترسیل پر 10 سے 15 ڈالرز وصول کرتے ہیں۔ ہم رقوم کی ترسیل پر کوئی چارجز وصول نہیں کرتے۔

مستقبل

سیبل اب تک منافع بخش نہیں ہوا جس کی واضح وجہ یہ ہے کہ یہ حال ہی میں لانچ ہوئی ہے۔ لیکن ٹیم سیبل پہلے سے ہی مستقبل پر نظریں جمائے ہوئے ہے کیوں کہ اس کے ارکان یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ وہ آئیڈیا ہے جسے امریکا میں روایتی بنک اور ممکنہ حریف جلد استعمال کرنے جا رہے ہیں۔

ناوین کہتی ہے، میں سمجھتی ہوں کہ بنکنگ اب بھی سب سے زیادہ منافع بخش صنعت ہے اور امریکا میں ایسی مارکیٹس بڑے پیمانے پر موجود ہیں جنہیں ان پراڈکٹس کی ضرورت ہے جو ہم پیش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مقابلہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس نے اپنے ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا، ہمارا ویژن حقیقت میں ایک گلوبل بنک بننا ہے جو کسی بھی غیر ملکی کی مدد کرے جو ایک ملک سے دوسرے ملک کا رُخ کرتا ہے۔ ہم امریکا سے اس لیے آغاز کر رہے ہیں کیوں کہ ہم یہاں رہتے ہیں اور ہم یہاں کے بارے میں زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ لیکن ہم جرمنی میں ایسا ہی کریں گے کیوں کہ کمپنی کے سی ٹی او یورپ سے ہیں، ان کا تعلق تو برطانیہ سے ہے لیکن وہ جرمنی میں رہتے ہیں۔ چناں چہ ان پراڈکٹس کی ضرورت تو قریباً ہر ملک میں ہے۔ اور ہم حقیقتاً غیر ملکیوں کے لیے ایک گلوبل بنک بننے کے لیے تیار ہیں۔

اس نے مزید کہا، جہاں تک بڑے بنکوں میں مسابقت کا تعلق ہے، اس کا انحصار نئے صارفین بنانے اور ان کو برقرار رکھنے پر ہے۔ ہماری ٹیم چوں کہ غیر ملکیوں پر مبنی ہے اور ہم بالخصوص غیر ملکیوں پر ہی توجہ مبذول کر رہے ہیں، ہمیں غیر ملکیوں کی ضروریات پر گہری نظر رکھنا پڑتی ہے اور ہم یہاں پس پردہ رہتے ہوئے کام کرتے ہیں جب کہ امریکا میں روایتی بنک اور فن ٹیک محض امریکی شہریوں کی ضروریات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here