برطانیہ جاپان کے ساتھ یورپی یونین کی طرز پر تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے پرجوش

36

ٹوکیو: برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب اور ان کے جاپانی ہم منصب  نے جاپان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کی طرز پر اعلیٰ پایے کا تجارتی معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

31 جنوری کو برطانیہ  یورپی یونین سے الگ ہو گیا، وہ 47 برس تک یورپی یونین کا رُکن رہا تھا اور اب ڈومینک ایشیاء کے چار ممالک کے سرکاری دورے پر ہیں۔

وہ آسٹریلیا کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد ہفتہ کی صبح ٹوکیو پہنچے جہاں انہوں نے ٹوکیو میں جاپانی وزیر خارجہ توشیمٹسو موٹیگی سے ملاقات کی۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے، آزادانہ تجارت کے حوالے سے ہماری کمٹمنٹ کے تحت ہم جلد از جلد نئی شراکت داری قائم کرنے پر کام کریں گے جو جاپان اور یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کی طرح پرجوش، اعلیٰ معیار اور دونوں فریقوں کے لیے سودمند ہو گا۔

ڈومینک راب نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا، ہم نے دوطرفہ تجارتی معاہدے کی جس طرح منصوبہ بندی کی ہے، وہ ہماری آزادانہ اور اصولوں پر مبنی تجارت کے حوالے سے ہماری مشترکہ کمٹمنٹ کے تناظر میں ایک طاقت ور علامت ثابت ہو گا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ کے یورپی یونین سے محدود تجارتی معاہدے کے خدشات، پائونڈ کی قدر میں کمی

جاپانی وزیر خارجہ موٹیگی نے کہا، جاپان اور برطانیہ کے درمیان آزادانہ تجارت کے لیے رسمی مذکرات کے تناظر میں تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، ہم نے اتفاق کیا ہے کہ ہم جلد از جلد مذاکرات شروع کریں گے اور انہیں منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

2018 میں جاپان اور یوریی یونین نے تجارتی معاہدہ کیا تھا جو 630 ملین سے زیادہ لوگوں اور متعدد معیشتوں کا احاطہ کرتا ہے جو قریباً عالمی پیداوار کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا، چین اور برطانیہ۔۔۔ پاکستانی مصنوعات کی بڑی منڈیاں

دونوں ملکوں نے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کرنے کے دو برس بعد 2013 میں مذاکرات کا آغاز کیا۔

یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد برطانیہ ناصرف بیلجیئم کے ساتھ بلکہ امریکا، جاپان اور دیگر ملکوں کے ساتھ بھی نیا تجارتی معاہدہ کرنے کی امید کر رہا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ سنگاپور اور ملائشیا کے دورے پر بھی جا رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here