کورونا وائرس : چین میں کاروبار جزوی شروع، اکثر کمپنیوں نے چھٹیاں بڑھا دیں، دنیا کی سب سے بڑی کارساز فیکٹری بھی بند

چین میں ہلاکتیں 722 ہو گئیں،31 ہزار 161 افراد ہسپتالوں میں داخل، امریکا کا وائرس سے متاثرہ ممالک کیلئے 10 کروڑ ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک کا 20 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان

155

بیجنگ، سیئول : چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 722 ہوچکی ہے جبکہ 31 ہزار 161 سے زائد افراد متاثر ہوکر ہسپتالوں میں بھرتی ہو چکے ہیں، چینی شہری نئے قمری سال کی چھٹیوں کے بعد کام پر لوٹنا شروع ہو گئے ہیں تاہم بیجنگ ، شنگھائی اور ووہان جیسے شہروں میں کاروبار اب بھی مکمل بند ہیں۔

بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہر اب ’’گھوسٹ ٹائون ‘‘ دکھائی دیتے ہیں کیونکہ یہاں تاحال  کاروباری مراکز، سکول، پبلک ٹرانسپورٹ ہر چیز بند ہے۔ دیگر شہروں میں بھی سکولوں میں نئے چینی قمری سال کی چھٹیاں بڑھا دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس، پاکستان نے جانوروں اور پرندوں کی درآمد پر پابندی لگا دی

نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر چین کے کچھ شہروں میں تجارتی اور معاشی سرگرمیاں جزوی طور پر شروع ہوچکی ہیں ،ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقی یافتہ  شہر شین زن میں اِکا دُکا کمپنیوں نے کام شروع کردیا ہے تاہم ملازمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ماسک پہن کر رکھیں، ٹمپریچر چیک کرتے رہیں ،حفاظتی تدابیر پر عمل ضرور کریں اور مزید  دو ہفتے ملک کے دیگر حصوں میں سفر نہ کریں۔

اکثر کمپنیوں کا کاروبار نہ کھولنے کا فیصلہ :

آئی فون بنانے والی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے کہا ہے کہ وہ چین میں اپنے کارپوریٹ آفسز اور کسٹمر کئیر سینٹرز 10 فروری سے کھولنے پر غور کرہے ہیں تاہم کمپنی کے ریٹیل سٹورز نئی ہدایات آنے تک بند رہیں گے اور ملازمین اپنے گھر وں سے ہی کام جاری رکھیں گے۔

 ایپل کو پرزہ جات سپلائی کرنے والی کمپنی Foxconn اپنی فیکٹریاں بتدریج دوبارہ چلا نا شروع کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس، ورلڈ بنک کا عالمی شرح نمو کے حوالے سے مرتب کیے گئے اندازوں میں کمی کرنے کا فیصلہ

ایپل کے علاوہ کئی غیر ملکی کمپنیوں نے تاحال کاروبار شروع نہیں کیے، امریکی فوڈکمپنی  Mars نے بھی 14 فروری تک اپنے چینی سٹاف کو گھروں سے کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

ای کامرس کمپنی ’’علی بابا ‘‘نے بھی  ملازمین کو 10 فروری تک گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ شنگھائی میں چینی حکام کے مطابق کار ساز ٹیسلا کی فیکٹری نے کام دوبارہ شروع کردیا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی کارساز فیکٹری بند:

کورونا وائر س کے باعث چین سے درآمدات پر پابندی کی وجہ سے جنوبی کوریا میں آٹو مینوفیکچرر ’’ہونڈائی‘‘ کی سب سے بڑی فیکٹری میں کام روک دیا گیا  کیونکہ جنوبی کوریا کہ زیادہ تر کمپنیاں سپئیر پارٹس کے لیے چین پر انحصار کرتی ہیں۔

ہونڈائی سالانہ  14 لاکھ گاڑیاں تیار کرتی ہے اور دنیا کی پانچویں بڑی آٹو مینو فیکچرر ہے تاہم کمپنی کو گاڑیوں میں الیکٹرک وائرنگ کے سامان کی عدم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے جو چین سے آنا تھا،جس کی وجہ سے جنوربی کوریا میں اس کے 5 پلانٹس پر کام بند ہے اور 25 ہزار ملازمین جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اس کے پلانٹ 5 دن بند رہیں گے ، معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے ہونڈائی کو 500 ملین ڈالر نقصان ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس :بھارت نے چینی کار ساز کمپنیوں کے نمائندوں کو آٹو شو میں شرکت سے روک دیا

ہونڈائی کے علاوہ ’’کیا موٹرز‘‘ نے بھی جنوبی کوریا ایک دن کیلئے پلانٹس بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ فرانسیسی کمپنی  رینالٹ (Renault) بھی آئندہ ہفتے فیکٹری بند کرنے پر غور کر رہی ہے۔

چین امریکا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، گزشتہ سال دونوں ممالک کا تجارتی حجم 450 ارب ڈالر تھا۔ جاپان چین سے 150 ارب ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ جنوبی کوریا اور ویت نام 100 ارب سے زائد کی مصنوعات منگواتے ہیں ، تجزیہ کاروں کے مطابق چین میں کاروبار جلد شروع نہ ہو سکے تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

امریکا ، ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے فنڈز کی فراہمی :

امریکا نے بھی چین اور کورونا وائرس سے متاثرہ دیگر ممالک کی امداد کے لیے 10 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا ہے۔

ادھرچین  کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ وہ وائرس سے متاثر علاقوں میں معاشی بحالی میں مدد دیگا، پیپلز بینک آف چائنا کے نائب صدر نے کہا ہے کہ وہ صورتحال  پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے کورونا وائرس کی روک تھام کے 20 لاکھ ڈالرکے نئے فنڈ کی منظوری دے دی ہے جس سے چین، کمبوڈیا،میانمار، تھائی لینڈ اورویت نام میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے اقدامات میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here