حکومت نے پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے ائیر سیال کو فلائٹ آپریشن شروع کرنے کا ایک اور موقع دیدیا

ائیر سیال 2017 میں لائسنس حاصل کرنے کے بعد دو سال کے اندر ائیر آپریٹر سرٹیفکیٹ (اے او سی )حاصل کرنے میں ناکام رہی، اس لیے پروازیں شروع نہیں کرسکی

171

اسلام آباد: حکومت نے ایک بار پھر پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے ائیر سیال کو فلائٹ آپریشنز شروع کرنے کی اجازت دیدی ہے، ائیر سیال کی جانب سے رواں سال پروازیں شروع کیے جانے کی توقع ہے۔

ائیر سیال کو مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے پروازوں کیلئے لائسنس جاری کیا تھا تاہم ائیر آپریٹر سرٹیفکیٹ (اے او سی )کی شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے اسکی پروازیں تاحال شروع نہیں ہو چکی ہیں، مذکورہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ائیر لائن کو جرمانہ کیا گیا تھا جسے بعدازاں وفاقی کابینہ نے معاف کردیا تھا۔

نیشنل ایوی ایشن پالیسی کے مطابق ، ’’اگر کوئی ائیرلائن لائسنس حاصل کرنے کے بعد دو سال کے اندر اے او سی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے  تو اسکی جمع کرائی گئی سکیورٹی کی رقم کا 10 فیصد نان کنفرمنس چارجز کی مد میں کاٹ لیا جائیگا، بقیہ رقم واپس کرکے کمپنی کو نیا لائسنس حاصل کرنے کاحکم دیا جائے گا۔‘‘

تاہم 6 جنوری 2020 کو ایوی ایشن ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو سمری بھیجی کہ ائیر سیال کی سکیورٹی کی رقم ضبط نہ کرنے کیلئے پالیسی میں نرمی کی منظوری دی جائے جس کی کابینہ نے فوری منظوری دے دی۔

ایوی ایشن ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو بتایا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ائیر سیال کے ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ لائسنس کی 5 ستمبر 2019 سے تجدید کر نے کی درخواست کی تھی جو کہ کمپنی کو 2017 میں جاری کیا گیا تھا تاہم مذکورہ لائسنس جاری ہونے کے دو سال بعد بھی کمپنی اے او سی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

کمپنی نے ایئر لائن کو فنکشنل کرنے کیلئے تمام ریگولیٹری ضوابط پورے کرنے کیلئے اپنی کوششوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آئر لینڈ کی کمپنی ائیر کیپ (AerCap) سے طیارہ حاصل کرنے کیلئے لیٹر آف انٹینٹ (LoI) کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ، اس کے علاوہ ائیر بس سے تین  اے 320 طیارے لیز پر حاصل کرنے کی حتمی منظوری بھی مل چکی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here