پیپلز پارٹی کے دور کے بعد پی ٹی آئی حکومت میں مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا: عالمی جریدہ

جنوری میں مہنگائی کی شرح 2019 کی اوسط مہنگائی سے زائد اور دسمبر 2010 ء کے بعد بلند ترین رہی اور آئندہ بھی زیادہ رہے گی: انٹیلی یونٹ اکانومسٹ

159

عالمی جریدے ’’اکانومسٹ ‘‘نے پاکستان میں مہنگائی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2010 کے بعد 2019ء میں مہنگائی کی شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبکہ 2020کے پہلے مہینے میں بھی اکثر اشیائے  خورونوش کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ ہوا ہے۔

2010ء میں پاکستان پیپلز پارٹی برسراقتدار تھی جب مہنگائی نے بلند ترین سطح کو چھوا ، 2019میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہےاور مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد پر پہنچ چکی ہے جو کہ ملکی تاریخ میں بلند ترین ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مہنگائی کی شرح 14.56 فیصد ہو گئی، ایک ہفتے میں 14 اشیاء مہنگی

نجی ٹی وی چینل کے مطابق دی اکانومسٹ کے انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2020 میں پاکستان میں بعض اشیائے ضروریہ کی رسد متاثر ہونے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔

جنوری میں مہنگائی کی شرح 2019 کی اوسط مہنگائی سے زائد اور دسمبر 2010 ء کے بعد بلند ترین رہی اور آئندہ بھی زیادہ رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں:آئندہ ڈیڑھ سے دو سال میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد پر آ جائے گی، گورنر اسٹیٹ بینک

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں 18.6 فیصد اضافہ بھی مہنگائی کی وجہ سے ہواہے جس سے معیشت کے مختلف شعبے خاص طور پر برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ٹڈی دل حملے سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی جس کے تدارک کیلئے  حکومت نے 7 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔

اکانومسٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کی نان ٹیکس آمدنی بڑھے گی جو آئی ایم ایف  پروگرام کی سخت مالی شرائط پوری کرنے میں مدد گار ثابت ہوگی تاہم گیس قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ سیاسی اور عوامی ردعمل کے پیش نظر مؤخر کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here