قومی اداروں سے 335.7 ارب روپے کی عدم وصولی پر پی ایس او کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ

1360

اسلام آباد: مقامی اور انٹرنیشنل بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی سے انکار پر پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) پر دیوالیہ ہونے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے، ایسی صورتحال میں دفاعی اداروں، مقامی اور غیر ملکی ائیرلائنز کو فیول کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔

پاکستان ٹوڈے کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق سوئی ناردرن گیس، پی آئی اے اور وفاقی حکومت کی جانب 15 دسمبر 2019 تک پی ایس او کے 335.7 ارب روپے واجب الادا ہیں جو نہ ملنے کی صورت پی ایس کو مالی بحران کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  200 ارب روپے کے بانڈز کے اجرا میں تاخیر، پی ایس او کو مشکلات کا سامنا

روپے کی قدر میں کمی سے بھی پی ایس او غیر ملکی بینکوں کا 28 ارب روپے کا مزید مقروض ہو گیا ہے۔

یاد رہے پی ایس او نے وزارتِ خزانہ کی ہدایت پر یہ قرضے لیے تھے جن کے باعث اب پی ایس او کو عدم فراہمی کی صورت میں نادہندگی کا خطرہ ہے۔

پی ایس او کے بورڈ آف مینجمنٹ کے چیئرمین اس معاملے کو فنانس سیکرٹری کے علم میں لا چکے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو 8 جنوری کو آگاہ کیا کہ فنانس ڈویژن نے تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں سے سفارش کی ہے کہ وہ بینکوں سے ادائیگی کے معاملات میں مہلت لیں اور اس سلسلے میں فنانشل انسٹی ٹیوشنز کو بھی انکے درآمدی منصوبے میں شامل کیا گیا ہے۔

مذکورہ منصوبے سے رقم کی ادائیگیوں میں سہولت دینے پر کمپنیوں کو زیادہ لاگت کا نقصان برداشت کرنا ہو گا، لیکن وفاقی حکومت کمپنیوں کے خسارے کی رقم ادا کرنے کے لیے رضامند ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس او بدترین مالی بحران شکار، ائیرلائنز کو جیٹ فیول سپلائی بند ہونے کا خدشہ

پی ایس او مقامی اور انٹرنیشنل بینکوں سے فنانس ڈویژن اور پیٹرولیم ڈویژن کی ہدایات کے پیش نظر 2013 سے پاکستان میں ایف ای – 25 لونز استعمال کر رہا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے پی ایس او کی لیکوڈیٹی پوزیشن بہتر کرنے اور کسی سنگین صورتحال سے بچنے کے پیش نظر 28 ارب روپےکی فراہمی کا حکم دیا ہے۔

ذرائع نے پاکستان ٹوڈے کے نمائندے کو بتایا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فنانس ڈویژن کو آئیندہ مالی سال سے پی ایس او کے لیے 28 ارب روپے اضافی مختص کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

 ذرائع نے مزید کہا کہ حکومت نے پی ایس او اور پارکو آئل ریفائنری کو ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور کریوڈ آئل کی درآمد یقینی بنانے کے لیے غیر ملکی بینکوں سے قرضے لینے کی ہدایت کی ہے۔

پی ایس او کو غیر ملکی بینکوں سے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کے لیے 800 ارب روپے لگ بھگ امریکی ڈالرز کے قرضے لینے کی اجازت دے دی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here