وفاق اور پنجاب حویلی بہادر شاہ ، بلوکی پاور پلانٹس کی نجکاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں جلد دور کرنے پر متفق

سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے نیشنل پاور پارکس منجمنٹ کمپنی کے ہیڈکوارٹرزمیں ورچوئل ڈیٹاروم کا افتتاح، ڈیٹا روم میں 78ہزار سے زائد دستاویزات موجود

138
وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت سے ملاقات کر رہے ہیں۔

لاہور: وفاق اور پنجاب نے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس کی نجکاری کی راہ میں حائل قانونی رکاوٹیں جلد دور کرنے کیلئے کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی ہے۔

جمعرات کو وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو اور وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے ایک ملاقات میں حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹس کی نجکاری کے حوالے سے قانونی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی حکومت کا 2 بینکوں، 2 بجلی گھروں، 27 سرکاری جائیدادوں کی نجکاری کرنے کا فیصلہ

 راجہ بشار ت نے دونوں بجلی گھروں کی نجکاری کے طریقہ کار پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں پاور پلانٹس آر ایل این جی سے چلائے جا رہے ہیں ، حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ 1230 میگا واٹ جبکہ بلوکی پاور پلانٹ 1223 میگاواٹ کا حامل ہے۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ زمین کی منتقلی، متعلقہ قوانین اور نجکاری کی راہ میں حائل دیگر قانونی پیچیدگیوں کو جلد از جلد حل کر لیا جائے گا، دونوں وزراء نے قانونی معالات دیکھنے کیلئے سب کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔

بعد ازاں میاں محمد سومرو نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) اور نیشنل پاور پارکس منجمنٹ کمپنی کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔

ورچوئل ڈیٹا روم کا افتتاح:

میاں محمد سومرو نے نیشنل پاور پارکس منجمنٹ کمپنی کے ہیڈکوارٹرزمیں ورچوئل ڈیٹاروم کا افتتاح کیا، انہیں بتایا گیا کہ ڈیٹا روم سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے بنایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے 27 سرکاری املاک کی نیلامی کی اجازت دے دی

یہ ایک ون ونڈو پلیٹ فارم ہے جہاں سے سرمایہ کار نیشنل پاور پارکس منجمنٹ کمپنی کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرسکیں گے، اس ڈیٹا روم میں 78ہزار سے زائد دستاویزات 474 مختلف قسم کے فولڈرز میں رکھی گئی ہیں ۔

وفاقی وزیر برائے نجکاری نے پروجیکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا روم میں ریپڈ رسپانس سسٹم کا اضافہ کیا جائے، انہوں نے اسے ’مارخور ‘ کا نام بھی دیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here