موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سسٹم کا منظرنامہ آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال کیلئے مستحکم قرار دیدیا

امن و امان کی صورتحال میں بہتری ، توانائی کی مقامی سطح پر پیداوار اور انفراسٹرکچر کے جاری منصوبوں کی مدد سے معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا: ریٹنگ ایجنسی

173

اسلام آباد: کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروسز نے پاکستان کے بینکنگ سسٹم کیلئے آئندہ ایک سے ڈیڑھ سال کی مدت کیلئے مستحکم منظرنامے کا اعلان کیا ہے۔

موڈیز کے سینئرنائب صدر کونٹین ٹینوس کیپریوس کی جانب سے جمعرات کو جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں حالیہ عرصے میں خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری کی وجہ سے حکومتی سکیورٹیز سے بینکوں کی مالی فائدہ ہوا جو انکے اثاثوں کا 40 فیصد بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:  پاکستانی معیشت کیلئے اصل نجات دہندہ کون؟ حکومت، فوج یا کوئی تیسرا؟

موڈیز کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری ، توانائی کی پیداوار اور انفراسٹرکچر کے جاری منصوبوں کی مدد سے معاشی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔

حکومت کی جانب سے روپے کی قدر اور تجارتی خسارہ میں کمی کرنے کی وجہ سے نجی سرمایہ کاری بڑھنے کے امکان ہیں جس میں حالیہ عرصے میں کمی ہو گئی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی کی جانب کہا گیا ہے کہ ملک میں بینکوں کے لیے کام کرنے کی شرائط میں بتدریج بہتری آرہی لیکن سخت نگرانی اور حکومت کی بھاری قرضوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر ان کے لیے کام کرنا مشکل ہے، جس سے نجی شعبے میں سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئی ایم ایف کی پاکستان کی معیشت پر تین سالہ پیش گوئی

پاکستان میں معاشی ترقی کی صورتحال مایوس کن ہونے کے باوجود ایکسچینج ریٹ جون 2019ء سے مستحکم ہے اور مارکیٹ کو امید ہے کہ آئندہ چند برسوں میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں کمی کا امکان ہے۔

اعلامیے کے مطابق صارفین کی جانب سے ڈپوزٹ میں استحکام اور بڑھتی ہوئی لیکویڈیٹی بھی اہم عناصر رہے جس سے بینکوں کو کم مالیت کی بے پناہ فنڈنگ ملی، تاہم منافع میں معمولی اضافہ متوقع ہے لیکن یہ تاریخی اعدادوشمار سے کم رہے گا۔

ایجنسی نے امید ظاہر کی کہ حکومت ضرورت پڑنے پر اہم بینکوں کی مدد کرے گی لیکن بی 3 ریٹنگ کی جانب سے عکاسی کرتے ہوئے کہا گیا کہ مالی سال میں درپیش چیلنجز کے سبب اس کی ایسا کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here