رواں سال گندم کی سرکاری قیمت 1400 روپے فن من مقرر کی جائے گی: سیکریٹری خوراک

بلوچستان میں 50 فلورملز ہیں جو ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں، پھر آٹا سندھ سے جاتا ہے، بلوچستان سے آٹا افغانستان اسمگل ہوتا ہے:  ہاشم پوپلزئی

344

اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی تحفظ خوراک کو بتایا گیا ہے کہ رواں سال گندم کی سرکاری قیمت 1400 روپے فن من مقرر کی جائے گی،اس حوالے سے سمری تیار ہے جو آئندہ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی )کوپیش کی جائے گی۔

جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کا اجلاس رکن اسمبلی مظفر حسین شاہ کی زیرصدارت ہوا، جس میں سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی ہاشم پوپلزئی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ جون میں 3 بار گندم کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی، نومبر2018 ء میں 10 ملین ٹن گندم کے ذخائر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  گندم بحران، سمگلنگ میں ملوث کسٹمز کے سات اہل کار ملازمت سے برخاست

انہوں نے کہا کہ سندھ ، پنجاب اور پاسکو نے 31 لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی درخواست کی لیکن نومبر2018 ء میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے صرف 5لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی۔

ہاشم پوپلزئی نے کہا کہ 30 اکتوبر کو گندم اور اسکی مصنوعات کی برآمد پرپابندی عائد کردی تھی ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پبلک سیکٹرز کے پاس 3.3 ملین ٹن گندم موجود ہے، رواں سال گندم کی خریداری کی سرکاری قیمت 1400 روپے فن من مقرر کی جائے گی، گندم کی امدادی قیمت 1400روپے فی من کرنے کی سمری تیار کرلی گئی ہے جو آئندہ اجلاس میں ای سی سی کوپیش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آٹے کے بحران میں ملوث 28 ملوں کے لائسنس معطل، لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش

سیکریٹری خوراک کے مطابق بلوچستان میں 50 فلورملز ہیں جو ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں،پھر آٹا سندھ سے جاتا ہےلیکن  بلوچستان سے آٹا افغانستان اورنا جانے کہاں کہاں اسمگل ہوتا ہے،وہاں بارڈر انتظام اور کسٹمز کا پہرا زیادہ موثر نہیں ۔

چیئرمین آل پاکستان فلار ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان میں ضرورت سے زائد گندم موجود ہے، نئی فصل آنے کے بعد پرانی 8 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ بچ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری لائیو اسٹاک نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار فِیڈ ملز کو گندم کی خریداری کی اجازت دی، کوئی نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا، پنجاب سے فیڈ ملز نے 11 لاکھ ٹن گندم خریدی، کے پی کے میں آٹے اور گندم کی ترسیل بند ہونے اور سندھ میں ٹرانسپورٹر کی ہڑتال کے باعث قلت پیدا ہوئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here