ایم سی بی کے منافعے میں 25 فی صد اضافہ، 40 ارب روپے کے ہدف سے بڑھ گیا

182

مسلم کمرشل بنک لمیٹڈ (ایم سی بی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس میاں محمد منشا کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں بنک کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جب کہ 31 دسمبر 2019 کو ختم ہونے والے سال کی معاشی سٹیٹمنٹ کی منظوری دی گئی۔

بورڈ نے فی شیئر چوتھی بار پانچ روپے کے منافعے کا اعلان کیا، مثال کے طور پر 50 فی صد، جس کے بعد مجموعی نقد منافع 2019 کو ختم ہونے والے سال کے دوران 170 فی صد تک پہنچ گیا ہے (یہ کمرشل بنکنگ کے شعبہ میں زیادہ سے زیادہ منافع دیے جانے کا رجحان ہے)۔

آپریٹ کرنے کے مشکل ماحول کے باوجود ایم سی بی کا منافع ٹیکسوں کی عدم ادائیگیوں کے ساتھ بڑھ کر 40.10 ارب روپے ہو گیا جو 2018 کی نسبت 25 فی صد نمایاں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ دیگر نمایاں نکات میں نیٹ انٹرسٹ مارجن میں متاثر کن اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سرمایہ کاری کی بنیاد کا بتدریج میچورٹی پروفائلنگ میں زیادہ موثر ڈھانچے کے ساتھ منتقل ہونا ہے۔

شرح سرحد کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی سٹریٹیجک پروفائلنگ کے باعث قلیل المدتی سے طویل المدتی سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا ہے۔  شرح سود سے حاصل ہونے والی بنیادی آمدن بڑھ کر 59.62 ارب روپے ہو گئی ہے جو گزشتہ برس کی نسبت 30 فی صد زیادہ ہے جس کی وجہ کم مالیت کے ڈیپازٹس کو موثر انداز میں استعمال میں لانا ہے۔

سود سے حاصل ہونے والے منافعے کا تجزیہ کیا جائے تو قرضوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں 20.37 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ 398 بیسک پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ سرمایہ کاری کی بات کی جائے تو بنیادی مارک اَپ سے ہونے والی بنیادی آمدن  میں 30.76 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ اوسط حجم کا بڑھ کر 66.61 ارب روپے ہونا ہے اور  391 بیسک پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ سود سے متعلقہ شرائط کو برداشت کرنے کے بارے میں بات کی جائے تو ڈیپازٹس میں گزشتہ برس کی نسبت 278 بیسک پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

مارک اَپ سے ہٹ کر آمدن کی بات کی جائے تو یہ 16.68 ارب روپے ہے جس میں اہم کردار کمیشن کی فیس اور غیر ملکی زرمبادلہ سے حاصل ہونے والی آمدن کا ہے۔

سال کے دوران شرح سود میں اضافے کے باوجود آپریشنل نیٹ ورک کا فروغ پانا اور ڈیجیٹل، سائبر، سکیورٹی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مستقل بنیادوں پر سرمایہ کاری کے باعث آپریٹنگ کے اخراجات کی شرح متاثر کن طور پر پانچ فی صد پر برقرار رہی ہے جیسا کہ موثر انداز سے اخراجات کو منتظم کرنا مسلم کمرشل بنک کی ایک نمایاں خاصیت ہے۔

خدمات کی فراہمی کے تناظر میں دیکھا جائے تو بنک  نے اس کا حجم ایڈوانسز کی مد میں کم کر کے 158 ملین روپے کیا  ہے جب کہ  بنک نے 2019 میں اکویٹی پورٹ فورلیو کی مد میں 2.8 ارب روپے کے بنیادی چارجز ریکارڈ کیے۔

معاشی حوالے سے دیکھا جائے تو بنک کے اثاثوں کی مجموعی بیس غیر جامد بنیادوں پر ایک رپورٹ کے مطابق 1.57 کھرب روپے ہے جس میں دسمبر 2018 میں ایک فی صد کا اضافہ ہوا۔ اگر اثاثوں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو بنیادی سرمایہ کاری اور ایڈوانسز بالترتیب 748.77 بلین روپے اور 496.68 بلین روپے بنتے ہیں۔

اثاثوں اور ایکویٹی پر ریٹرن بالترتیب 1.59 فی صد اور 16.94 فی صد ہے جب کہ کھاتوں میں فی شیئر کی قیمت 122.54 روپے رپورٹ کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here