وزیراعظم کے قریبی رفقا جہانگیر ترین اور خسرو بختیار چینی بحران کے ذمہ دار، سابق گورنر سندھ محمد زبیر کا دعویٰ

222

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان  کے دائیں بائیں بیٹھے دو سینئر پارٹی رہنماء جہانگیرترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار چینی بحران کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ استفسار کیا کہ جہانگیر ترین درآمدات اور برآمدات کے فیصلے کس حیثیت میں کر رہے ہیں؟

انہوں نے کہا، ملک میں جاری تمام تر تباہی کے ذمہ دار عمران خان ہیں جنہوں نے جہانگیر ترین کو محض اس لیے رکھا ہوا ہے تاکہ وہ تحفے تحائف دے کر مذاکرات کامیاب کروائیں۔

صوبائی گورنر سندھ نے مزید کہا، ایک ماہ میں آٹے کی قیمتوں میں 20 روپے فی کلو اضافہ ہوا جس کے باعث عوام کو 40 ارب روپے کے نقصان کا برداشت کرنا پڑا۔ کیا اس سے بڑا غبن کوئی ہو سکتا ہے؟

انہوں نے اس اہم نکتے کی جانب بھی توجہ دلائی کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے قبل ہی جہانگیر ترین تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے فیصلے کے بارے میں آگاہ تھے۔ انہوں نے اجلاس سے پہلے ہی تین لاکھ گندم درآمد کرنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنماء نے کہا، حقیقت میں جہانگیر ترین اور خسرو بختیار چینی بحران کے ذمہ دار ہیں اور ان بحرانوں کے حوالے سے تحقیق کرنا عوام کے ساتھ مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔

محمد ذبیر نے کہا، حکومت ہر روز عوام پر ایک نیا بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایک بار پھر منی بجٹ لانے کا ذکر ہو رہا ہے اور تو اور حکومت نے اب تک پارلیمان کو آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے بارے میں بھی اعتماد میں نہیں لیا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب بھی آٹے کے بحران کی ذمہ داری تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار پر عائد کر چکی ہیں۔

انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر ہی آٹے کی قیمتیں کنٹرول کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی ملک بھر میں گندم کا بحران شدت اختیار کر گیا تھا جس کے باعث آٹے کی قیمت 70 روپے فی کلو ہو گئی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here