ارکان پارلیمان کی تنخواہوں میں اضافے کا بل، پاکستان پیپلز پارٹی اور حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف مخالفت میں ہم آواز

219

اسلام آباد: ارکان پارلیمان کی تنخواہوں میں اضافے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بھی تنقید کر رہی ہیں جس کے بعد سینیٹ میں حکمران جماعت کے پارلیمانی سربراہ سجاد حسین طوری نے اب یہ کہا ہے کہ اگر بل پر اتفاق رائے پیدا نہ ہوا تو یہ واپس لے لیا جائے گا۔

یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ سجاد حسین طوری آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہوئے تھے تاہم بعدازاں وہ سینیٹ میں حکمران جماعت کے پارلیمانی سربراہ مقرر کیے گئے۔ انہوں نے ارکان سینیٹ کی تنخواہوں میں اضافے کا بل کل پیش کرنا ہے۔

انہوں نے تنخواہوں میں اضافے کی ضرورت پر دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ محض نمبرز گیم کی وجہ سے بل کی مخالفت کر رہے ہیں، تاہم بل کی مخالفت کرنے والوں میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر بھی شامل ہیں جنہوں نے تنخواہوں میں اضافے کو نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک فی الحال معاشی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔

دوسری جانب، اسد حسین طوری یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ سینیٹ کے 85 ارکان نے تنخواہوں میں اضافے کے بل کی حمایت کی ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کریں گے اور اگر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو بل واپس لے لیں گے۔

ارکان پارلیمان کی تنخواہوں اور مراعات میں دو گنا اضافے کے مجموزہ بل کی مخالفت میں اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بھی پیش پیش ہے۔‎

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کیا، میڈیا میں پارلیمان کے ارکان کی تنخواہیں بڑھانے سے متعلق سینیٹ کے بل کی خبریں درست نہیں ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان حالات میں عوامی نمائندوں کا اپنی مراعات میں اضافہ کرنا قطعی طور پر مناسب نہیں۔

اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی طور پر بل کی حمایت نہیں کرے گی۔

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنماء سینیٹر شیریں رحمان نے ٹویٹ کیا، پاکستان اس وقت مختلف النوع معاشی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے موقع پر تنخواہوں میں اضافہ مناسب نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ضروری اس اَمر کی ہے کہ سرکاری خزانہ عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے خرچ ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here