7 ماہ میں ایف بی آر کو 103 ارب روپے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا

انکم ٹیکس کی مد میں 913 ارب، سیلز ٹیکس ایک ہزار 36 ارب، ایکسائز ڈیوٹی مد میں 145 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 380 ارب روپے جمع ہوئے

113

اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 103 ارب روپے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے سات ماہ کے دوران 2 ہزار 406 ارب روپے ٹیکس جمع کیا ہے جبکہ ہدف 2 ہزار 509 ارب روپے کا تھا۔

اس سے قبل آئی ایم ایف بھی ایف بے آر کا ٹیکس ہدف 273 ارب روپے کم کر چکا ہے، ایف بی آر نے رواں مالی سال کے لیے ٹیکس کولیکشن کا ہدف 5 ہزار 598 ارب روپے تھا لیکن آئی ایم ایف نے اسے کم کرتے ہوئے 5 ہزار 258 ارب روپے کردیا۔

مذکورہ مدت کے دوران ایف بی آر انکم ٹیکس کی مد میں 913 ارب، سیلز ٹیکس کی مد میں ایک ہزار 36 ارب، ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 145 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 380 ارب روپے جمع کرسکا ہے۔

ایف بی آر نے 68 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز بھی ادا کیے ہیں۔

ایف بی آر نے ٹیکس میں کمی کی وجہ ملکی درآمد میں کمی کو قرار دیا ہے، ایف بی آر کے مطابق درآمدات میں کمی کی وجہ سے 56 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here