گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں کمی، محکمہ ایکسائز کے لیے ریونیو اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گیا

119

لاہور: کاروں اور موٹرسائیکلوں کی پروڈکشن میں کمی کے باعث ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کنٹرول (ای ٹی این سی) ڈیپارٹمنٹ اس سیکٹر سے ریونیو کے حصول میں کمی کا سامنا کر رہا ہے جیسا کہ اس نے اس مد میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران اب تک محض 3.9 ارب روپے ہی جمع کیے ہیں۔

مالی سال 20-2019 کے دوران ڈیپارٹمنٹ نے موٹر وہیکلز کی رجسٹریشن سے 9.1 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا ہے جب کہ گزشتہ مالی سال 19-2018 کے دوران بھی یہی ہدف مقرر کیا گیا تھا اور محکمے نے اسے آسانی سے حاصل بھی کر لیا تھا۔

 گزشتہ مالی سال کے اولین چھ ماہ کے دوران محکمے نے 48 ہزار گاڑیوں اور 87 ہزار موٹرسائیکلوں کی رجسٹریشن کی جب کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران محض 32 ہزار گاڑیاں اور 43 ہزار موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ کی گئی ہے جب کہ قریباً ایک ہزار کمرشل گاڑیاں بھی رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔

محکمہ ایکسائز کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رواں برس گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی فروخت اور پروڈکشن میں نمایاں کمی آئی ہے جس کی وجہ ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، وہ لوگ جو نئی گاڑیاں خریدتے ہیں، ان کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اپنے اثاثے ظاہر کرنا ہوتے ہیں جو نئی خریداری کی مستقل نگرانی کر رہا ہے۔ ان دونوں لوگ پرانی گاڑیاں خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں کیوں کہ ان پر انہیں محض ٹوکن ٹیکس اور ٹرانسفر فیس ہی ادا کرنا ہوتی ہے۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران مختلف کیٹیگریز میں 60,862 گاڑیاں مینوفیکچر کی گئیں جن میں سے 59,097 گاڑیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ گزشتہ برس 113,494 گاڑیاں مینوفیکچر کی گئیں جن میں سے 104,038 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔

ان اعداد و شمار کی مزید گہرائی میں جایا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 18,974 مسافر بردار گاڑیاں مینوفیکچر کی گئیں جب کہ گزشتہ برس اسی عرصہ کے دوران فروخت ہونے والی گاڑیوں کی تعداد 19,797 تھی۔ کچھ اسی طرح ایک ہزار سی سی کی حامل 13,470 گاڑیاں مینوفیکچر کی گئی جن میں میں سے 11,155 فروخت ہو گئیں۔ مزیدبرآں، ایک ہزار سی سی کی طاقت سے کم حامل کے انجن کی 28,417 گاڑیاں پروڈیوس کی گئیں جن میں سے 28,145 فروخت ہو گئیں۔

پاکستان آموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے کاروباری وہیکلز کے حوالے سے بھی اعداد و شمار ظاہر کیے ہیں جن کے مطابق، 1,729 ٹرک پروڈیوس کیے گئے جن میں سے 1,691 فروخت ہو گئے، 326 بسیں پروڈیوس کی گئیں اور 373 فروخت ہو  گئیں۔ گزشتہ برس اسی عرصہ کے دوران 515 بسیں مینوفیکچر کی گئیں اور 546 فروخت ہوئیں۔ اسی طرح رواں برس 809,607 موٹرسائیکلیں اور رکشے  مینوفیکچر کیے گئے ہیں جن میں سے 799,820 فروخت ہو گئے ہیں۔ گزشتہ برس 914.860 موٹرسائیکلیں اور رکشے مینوفیکچر کیے گئے تھے جن میں سے 909,560 فروخت ہو گئے تھے۔

پاکستان ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے محکمہ ایکسائز ریجن سی کے ڈائریکٹر رانا قمرالحسن سجاد نے کہا کہ رواں برس محکمے کے لیے اپنا ہدف حاصل کرنا نہایت مشکل ہے جس کی وجہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی مینوفیکچرنگ میں کمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا،ہم نے گزشتہ برس نو ارب روپے کا ہدف حاصل کر لیا تھا لیکن رواں برس یہ ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

یہ ذکر کرنا نہایت اہم ہے کہ یہ واحد سیکٹر نہیں ہے جو محکمے کے ریونیو پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ محکمہ شراب کی فروخت میں کمی کے باعث بھی ریونیو شارٹ فال کا شکار ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here