پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی، ترقی کی راہ پر آ گئے ہیں: شاہ محمود

پاک افریقہ تجارت محض 3 ارب ڈالر، آئندہ 5 سالوں میں دُگنا کریں گے، 6 افریقی ممالک میں تجارتی دفاتر کھولیں گے: مشیر تجارت رزاق دائود

67

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور ہم ترقی کی راہ پر آ چکے ہیں۔

کینیا کے شہر نیروبی میں پاک افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے پاس اکیسویں صدی میں ایک کامیاب ملک بننے کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔ ہم نے دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات کرکے اس پر قابو پایا ہے اور اداروں میں اصلاحات کر کے مسائل کو مواقع میں بدل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہا کہ 92 قسم کی معدنیات کے ذخائر پاکستان میں موجود ہیں جن میں 52 قسم کی معدنیات کی تجارت ہم کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو چکی ہے اور اب ہم ترقی اور شرح نمو کو برقرار رکھنے کی راہ پر آ گئے ہیں۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد:

پاک افریقہ ٹریڈ ڈویلپمنٹ کانفرنس سے خطاب میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان آئندہ 5 سالوں میں افریقی ممالک سے دو طرفہ تعلقات اور معاشی تعاون کو بڑھا کر تجارتی حجم کو دُگنا کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور افریقہ کے مابین تجارتی حجم زیادہ ہونے کی بجائے ممکنہ طور پر کم رہا ہے جسے اب بڑھانے کی ضرورت ہے۔

رزاق دائود نے کہا کہ 2018ء میں افریقی ممالک کی سالانہ عالمی تجارت 1.075 کھرب ڈالر رہی  لیکن پاک- افریقہ تجارت گزشتہ سالوں سے صرف 3 ارب ڈالر رہی ہے۔

مشیر تجارت نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت نے افریقہ میں اپنا تجارتی اثرو رسوخ بڑھانے کےلیے زیادہ تجارتی سفیر تعینات کیے  ہیں۔ ‘‘ہم افریقی خطے میں اپنے سفارتخانوں میں 6 نئے تجارتی ونگز کھول رہے ہیں۔’’

جن ممالک میں یہ نئے تجارتی دفاتر کھولے جائیں گے ان میں الجیریا، مصر، ایتھوپیا، سینیگال، سوڈان اور تنزانیہ شامل ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن سے ملاقات

رزاق داؤد نے کہا کہ پاکستان افریقی ممالک کیساتھ چاول، برقی آلات، ٹیکسٹائل مصنوعات، ادویات، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، برتن، فرنیچر اور دیگر شعبوں میں تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے۔

بعد ازاں نیروبی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے کینیا کی وزیر خارجہ ریچیلے اومامو نے بھی ملاقات کی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کینیا پاکستانی اشیا کیلئے چین کے بعد دوسری بڑی منڈی ہے۔

اس موقع پر دونوں ممالک نے سفارتکاروں کی تربیت کے حوالے سے تحریری یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔

وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن سے بھی ملاقات کی جس میں ماحولیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہونے کیلئے پاکستان کی کوششوں اور بلین ٹری سونامی اور گرین پاکستان مہم سے آگاہ کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here