آٹے کے بحران میں ملوث 28 ملوں کے لائسنس معطل، لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش

270

لاہور: محکمہ خوراک پنجاب کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہےکہ ملک میں گندم کی قلت میں کم از کم 204 ملیں ملوث تھیں جس کے باعث ملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس دسمبر سے 28 ملوں کے لائسنس معطل کیے جا چکے ہیں جب کہ گندم بحران کے تناظر میں ملوں کو 5.62 ملین کا جرمانہ کیا گیا ہے۔

محکماتی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ 14 ملیں لاہور ڈویژن اور آٹھ راولپنڈی ڈویژن میں واقع ہیں۔

رپورٹ میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں پیدا ہونے والے بحران میں ملوث لوگوں کی اکثریت طاقت ور سیاسی پس منظر کی حامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق، روپے کی قدر میں کمی اور آٹے کی قلت پر قابو پانے کے لیے مقامی تاجروں کی جانب سے طلب کا بڑھنا بھی حالیہ بحران کا باعث بنا۔

گزشتہ ہفتے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ملک بھر میں گندم کا بحران پیدا ہونے کی وجوہ کا پتہ لگانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں گندم کے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی کی تاکہ ان عناصر کا کھوج لگایا جا سکے جو آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کے ذمہ دار تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے بحران کے شدت اختیار کرنے پر گندم کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹس بھی لیا۔

رواں برس کے آغاز میں گندم کی رسد میں کمی کے باعث آٹے کی قیمت میں پانچ روپے فی کلو اضافہ ہوا۔

ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق، آٹا قبل ازیں 62 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا تھا جو بڑھ کر 70 روپے فی کلو ہو گیا کیوں کہ فلور ملوں نے آٹے کی قیمت میں پانچ سے چھ روپے فی کلو اضافہ کر دیا تھا۔

کراچی میں 10 کلوگرام آٹے کا تھیلا پانچ سو روپے میں فروخت ہوتا رہا اور شہر کے کچھ علاقوں میں یہ 700 روپے میں بھی فروخت ہوا جہاں یہ قبل ازیں 450 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔

لاہور میں پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن نے آٹے کی قیمت میں چھ روپے فی کلوگرام اضافہ کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here