سپریم کورٹ کا سیلز ٹیکس ریفنڈز میں مبینہ ملوث ایف بی آر افسر کیخلاف دوبارہ انکوائری کا حکم

ایف بی آر سچ کیوں نہیں بتا رہا؟ عدالت کیساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش نہ کریں: چیف جسٹس

103

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر قانونی طور ٹیکس ریفنڈ کرنے والے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے ایک افسر کے خلاف دوربارہ انکوائری کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ نے ایف بی آر کو حکم  دیا کہ ڈی سی سیلز ٹیکس عبدالحمید انجم کیخلاف دوبارہ انکوائری کی جائے۔

عدالت نے سوال کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ہی جرم میں ایک افسر کو سزا دی جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے؟

چیف جسٹس نے ایف بی آر کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے افسر سے استفسار کیا کہ ایف بی آر سچ کیوں نہیں بتا رہا؟ ‘‘عدالت کیساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش نہ کریں، ہمیں معلوم تھا آپ ایک پرانی انکوائری عدالت کے سامنے لا رکھیں گے، آپ نے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسر کو کیوں نہیں پکڑا؟’’

بعد ازاں عدالت نے تین ماہ کے اندر متعلقہ افسر کیخلاف دوبارہ انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے ڈی سی سیلز ٹیکس عبدالحمید انجم کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا، انجم پر الزام تھا کہ انہوں نے کراچی کی تین کمپنیوں کو 80 لاکھ سے زائد کے سیلز ٹیکس وائوچر ریفنڈ کردئیے تھے۔

انہوں نے اپنی برطرفین کو فیڈرل سروسز ٹربیونل میں چیلنج کیا جس نے انکی بحالی کا حکم دیتےہوئے کہا ان کے خلاف الزامات کے ثبوت نہیں ملے۔

ان لینڈ ریونیو سروسز کے دو دیگر افسران اشفاق علی ٹونیو اور سینئر آڈیٹر امیر الحق بھی مبینہ طور پر معاملے میں ملوث تھے، انہوں نے بھی برطرفی کے بعد فیڈرل سروسز ٹربیونل سے رجوع کیا تاہم ٹربیونل نے دونوں کے کیسز ایف بی آر کو بھیج دئیے اور محکمانہ طور پر معاملہ سلجھانے کا حکم دیا۔

تاہم ایف بی آر کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اشفاق ٹونیو کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی منظوری دے دی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here