سعودی شوریٰ کونسل کی پاکستان کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کی اجازت

369

اسلام آباد: سعودی شوریٰ کونسل نے سعودی عرب اور پاکستان کےدرمیان قابل تجدید توانائی کی ڈویلپمنٹ کے لیے معاہدے کے مسودے کو قبول کر لیا ہے۔

سعودی اخبار عرب نیوز کی ایک خبر کےمطابق، سعودی شوریٰ کونسل نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ریفائننگ اور پیٹروکیمیکل کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع کے بارے میں تحقیق کرنے کے تناظر میں مفاہمتی یادداشت کا ڈرافٹ منظور کر لیا گیا ہے۔

پاکستان آلٹرنیٹیو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ (اے ای بی ڈی) کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر رانا عبدالجبار نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان یقیناً عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرے گی جن میں سلطنتِ سعودی عرب بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس فروری میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ کے دوران قابل تجدید توانائی کے شعبہ میں تعاون کے میمورینڈم کے مسودے پر دستخط کیے گئے۔ ولی عہد کے دورہ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 20 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے پیکیج کا اعلان کیا جس میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس کی تعمیر، قابل تجدید توانائی کے منصوبے اور معدنیاتی وسائل میں سرمایہ کاری شامل ہے۔

ڈاکٹر رانا عبدالجبار نے مزید کہا، حکومت پاکستان نجی کمپنیوں کی شراکت سے فعال انداز سے قابل تجدید توانائی کے وسائل کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، سعودی عرب کے ساتھ تعاون پاکستانی حکومت کے ان اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہونے جا رہا ہے جو 2025 تک ملک کی مجموعی توانائی میں 25 فی صد قابل تجدید توانائی شامل کرنے سے متعلق ہے اور 2030 تک اسے بڑھا کر 30 فی صد کرنا ہے۔

یہ اہداف آلٹرنیٹو و رینیوایبل انرجی پالیسی 2019 (اے آر ای پالیسی 2019) میں مقرر کیے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here