تھرکول پاور پراجیکٹ، پی پی آئی بی اور تھر انرجی لمیٹڈ کے درمیان معاہدے پر دستخط

221

اسلام آباد: دی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے تھر کول سے 330 میگاواٹ توانائی پیدا کرنے کے منصوبے کے لیے مالیاتی معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔

وزیر توانائی عمر ایوب خان نے منصوبے کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تقریب کا مشاہدہ کیا۔ اس موقع پر توانائی ڈویژن، پی پی آئی بی اور تھر انرجی لمیٹڈ کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

پی پی آئی بی کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہ جہاں مرزا اور تھر انرجی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلیم اللہ میمن نے بالترتیب اپنے اپنے اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے دستاویز پر دستخط کیے۔

قبل ازیں، منصوبے پر عملدرآمد کے معاہدے پر 10 نومبر 2017 کو دستخط کیے گئے تھے۔ اس منصوبے پر تھر بلاک ٹو میں کام جاری ہے جسے حب پاور کمپنی لمیٹڈ، فوجی فرٹیلائزر لمیٹڈ اور چائنہ مشینری و انجینئرنگ کارپوریشن نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) فریم ورک کے تحت مل کر سپانسر کیا ہے۔

منصوبے پر آنے والی مجموعی لاگت 497 ملین ڈالر ہے جب کہ چائنہ ڈویلپمنٹ بنک اور حبیب بنک لمیٹڈ نے اس کے لیے بڑے پیمانے پر قرضہ فراہم کیا ہے۔

منصوبہ تھر کے کوئلے کو استعمال میں لائے گا جو سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کی جانب سے اس کی مائننگ کے دوسرے مرحلے کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے اور منصوبے پر عملدرآمد کے بعد کوئلے کی قیمت 64 ڈالر فی ٹن سے کم ہو کر 44 ڈالر فی ٹن رہ جائے گی جس کے باعث پاور ٹیرف میں نمایاں کمی آئے گی اور یہ ایک اعشاریہ چھ کلو واٹ فی گھنٹہ ہو جائے گا (مثال کے طور پر قریباً دو سینٹ کلو واٹ فی گھنٹہ)۔

کاروباری بنیادوں پر منصوبے کے شروع ہونے کے بعد بیرونی زرمبادلہ کے تناظر میں قریباً 18 ارب ڈالر سالانہ بچائے جا سکیں گے اور 2022 میں جب تھر کول کے پانچ ہزار میگاواٹ توانائی پیدا کرنے کے حامل تمام منصوبے کام شروع کر دیں گے تو 260 ارب ڈالر سالانہ کی بچت ہو گی جس کے باعث بجلی کا ٹیرف کم ہو کر پانچ سینٹ کلو واٹ فی گھنٹہ ہو جائے گا۔

سپانسرز مارچ 2021 تک منصوبہ مکمل کرنے کے لیے پرجوش ہیں اور یہ ہدف حاصل کرنے کے لیے انہوں نے تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے جس کے باعث اب تک 40 فی صد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

یہ منصوبہ بجلی کی ترسیل کے لیے مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن سے منسلک ہو گا۔

تھر کول میں جاری پانچ ہزار میگاواٹ توانائی پیدا کرنے کے منصوبوں کے علاوہ پی پی آئی بی اس وقت نجی شعبہ میں 6550 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے ہائیڈرو پاور منصوبوں پر بھی کام کر رہا ہے جو فی الوقت عملدرآمد کے مختلف مراحل میں ہیں۔

2022 تک پی پی آئی بی 11 منصوبوں کی تکمیل سے 6500 میگاواٹ سے زیادہ توانائی پیدا کرنے کا ہدف رکھتا ہے جن میں سے منصوبوں کی اکثریت تھرکول اور ہائیڈرو ہے۔ بورڈ پاکستان کے نجی شعبہ کے اولین 660 کلوواٹ کے حامل مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن لائن منصوبے پر بھی عملدرآمد کر رہا ہے جو پہلا ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ منصوبہ ہے جس کا مقصد کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی جنوبی زون سے لوڈ سنٹرز تک ترسیل عمل میں لانا ہے۔ یہ منصوبہ بھی فی الحال زیرتعمیر ہے اور اس کی تکمیل کے لیے مارچ 2021 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

وزیر توانائی عمر ایوب خان نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ 330 میگاواٹ بجلی کے قومی گرڈ میں شامل ہونے سے بجلی کی قلت میں کمی آئے گی اور یہ توانائی کے شعبہ میں پائیداری اور معتبریت کے حصول میں کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا،مقامی اور قابل تجدید توانائی کے حصول کی کوشش میں پاکستان کے توانائی کے منظرنامے میں ایک میگاواٹ کا بھی شامل ہونا اور مقامی ذرائع پر انحصار توانائی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے نہایت اہم ہے جس کے باعث پاکستان کا درآمداتی ایندھن پر انحصار ختم ہو جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here