سٹیٹ بنک آف پاکستان کا برآمداتی شعبہ کے لیے 200 ارب روپے کے پیکیج کا اعلان

286

کراچی: سٹیٹ بنک آف پاکستان نے طویل المدتی معاشی سہولت (ایل ٹی ایف ایف) کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے تاکہ تمام منظور شدہ ایکسپورٹ سیکٹرز کا احاطہ کرنا ممکن ہو سکے۔

بنکوں کو دو سو ارب روپے کی اضافی رعایتی فنانسنگ فراہم کی گئی ہے جن میں سے ایک سو ارب ایل ٹی ایف ایف اور ایک سو ارب ایکسپورٹ ری فنانس سکیم (ای ایف ایس) کے تحت دیے گئے ہیں جنہیں 30 جون 2020 تک استعمال میں لانا ہے۔ اس ترغیباتی پیکیج  اور پالیسی ریٹ کا اعلان ایک ساتھ کراچی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان میں کیا گیا۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اگلے دو ماہ کے لیے پالیسی ریٹ 13.25 فی صد پر برقرار رکھا ہے تاکہ افراط زر پر قابو پایا جا سکے جو معاشی سال 2021-2020 کے دوران تبدیل ہوئے بنا 12-11 فی صد پر برقرار رہا ہے۔

ترغیبی پیکیج کا مقصد پاکستان میں متنوع برآمداتی منصوبے شروع کرنا ہے اور مختلف شعبوں میں برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے، حالیہ اقدامات کا مقصد برآمداتی صنعتوں اور کاروبار کرنے میں آسانی کے تناظر میں مینوفیکچرنگ کے حوالے سے تشویش کو دور کرنا ہے اور برآمدات کو فروغ دینا ہے۔

مزید برآں، ایل ٹی ایف ایف کے تحت زیادہ سے زیادہ حد دو اعشاریہ پانچ ارب سے بڑھا کر پانچ ارب فی پراجیکٹ کی جا چکی ہے تاکہ ایکسپورٹرز کی بڑھتی ہوئی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

سٹیٹ بنک آف پاکستان نے کہا ہے کہ ایس ایم ای برآمدکنندگان کے حوالے سے ایل ٹی ایف ایف اور ای ایف ایس کے لیے محتاط تعین اور میکانزم کا ممکنہ طور پر مارچ 2020 میں اعلان کر دیا جائے گا۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے بنکوں کو کمرشل درآمدکنندگان  کو  خام مواد، سپیئر پارٹس اور مشینری کی درآمد کے لیے فی انوائس 10 ہزار ڈالرز یا مساوی ادائیگی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اس کے ساتھ ہی بنکوں کو کمرشل امپورٹرز کو خام مواد اور سپیئر پارٹس کی درآمد کے لیے اوپن اکائونٹ پر ادائیگی کرنے کی اجازت بھی دی ہے۔

مزیدبرآں، سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایڈوانس ادائیگی کی حد 50 فی صد سے بڑھا کر 100 فی صد کر دی ہے جس کی اجازت لیٹر آف کریڈٹ کی بنیاد پر مینوفیکچرنگ کے حوالے سے تشویش دور کرنے کے لیے دی گئی ہے تاکہ وہ پلانٹس، مشینری، سپیئر پارٹس اور خام مال وغیرہ درآمد کر سکیں۔ سٹیٹ بنک آف پاکستان نے قبل ازیں دسمبر 2019 میں ایڈوانس ادائیگی درآمد پر آنے والی لاگت کے 50 فی صد تک بڑھائی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here