لاہور میں 10 سال میں 67 پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشن کو این او سی جاری کیے گئے

189

لاہور(شہاب عمر): لاہور میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران محکمہ ایکسپلوسیوز کی جانب سے 67 پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز کو این او سی جاری کیے گئے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ گذشتہ 10 سالوں میں ان نئے قائم کردہ پٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز کے خلاف صرف 2 شکایات درج کی گئیں۔ ان شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ نے لائسنس کی عدم دستیابی پر بھٹہ چوک کے قریب ایک پٹرول پمپ کو سیل کردیا۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پنجاب انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کو لکھے گئے خط کے مطابق ضلعی پٹرول پمپ کمیٹی کے طرف سے پٹرول پمپس کے قیام کے لئے ایک این او سی جاری کیا جاتا ہے اور اس کے بعد محکمہ ایکسپلوسوز ایک لائسنس جاری کرتا ہے۔ لہذا خط کے مطابق ڈی سی لاہور نے اس حوالے سے تحقیقات کا حکم دے رکھا ہے کہ آیا لائسنس محکمہ ایکسپلوسوز نے جاری کیے تھے یا نہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے محکمہ ایکسپلوسوز سے پٹرول پمپس کی فہرست بھی طلب کرلی ہے۔

مزید یہ کہ نئی پالیسی کے تحت ڈی سی او اب پیٹرول پمپس یا سی این جی اسٹیشنز کے لئے این او سی جاری نہیں کر سکتا تاہم اگر کوئی فرد یا ادارہ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

جب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA)، محکمہ ایکسپلوسوز یا کوئی اور شخص ضلعی انتظامیہ کو شکایت درج کرواتا ہے تو اسسٹنٹ کمشنر آفس کی جانب سے اس شکایت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے اور اگر واقعی حقیقی شکایت ہو تو ضروری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

جب ڈسٹرکٹ کمشنر (DC) افضال دانش سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ شکایات کی تعداد اس لیے کم ہے کیونکہ محکمہ ایکسپلوسوز خود ہی تمام معاملات حل لیتا ہے۔ غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لئے شکایات کو جلدی نمٹا دیتے ہیں۔

غیر قانونی پٹرول پمپس کے بڑھتے رجحان کے بارے میں ڈی سی افضال دانش نے کہا کہ محکمہ ایکسپلوسیوز کی ٹیمیں ایسے پٹرول پمپس کیخلاف سرگرم عمل ہیں لیکن وہ عدالتوں سے رجوع کرکے دوبارہ کام شروع کردیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here