کیا سٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کریگا؟ معاشی تجزیہ کاروں کی متضاد آراء

355

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان کل(28 جنوری) کو مانیٹری پالیسی کا اعلان کریگا ایسے میں تمام بڑے بروکرز اور معاشی تجزیہ کار یہی پیشگوئی کر رہے ہیں کہ پالیسی ریٹ 13.25 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔

حتیٰ کہ 29 ریسرچ ہائوسز نے پالیسی ریٹ کے حوالے سے سروے کے بعد کہا ہے کہ مرکزی بینک پالیسی ریٹ کے حوالے سے سٹیٹس کو کو برقرار رکھے گا۔

تاہم کچھ ریسرچ ہائوسز سے وابستہ افراد سی ایف اے سوسائٹی آف پاکستان کی پالیسی ریٹ برقرار رہنے کے حوالے سے پیشگوئی سے اختلاف بھی کر رہے ہیں۔

سروے میں حصہ لینے والے 97 فیصد افراد کا خیال ہے کہ پالیسی ریٹ تبدیل نہیں ہوگا جبکہ محض 3 فیصد نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں 25 بیسز پوائنٹس کا اضافہ ہو سکتا ہے، کچھ نے تو 50 بیسز پوائنٹس اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا۔

 اگر ایسا ہوتا ہے تو شرح سود 13.75 فیصد تک چلی جائےگی۔

لیکن شرح سود میں اضافہ ہی کیوں ہوگا؟ پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سے وابستہ عدنان شیخ کہتے ہیں کہ عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مثبت انٹرسٹ ریٹ برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوری میں ہونے والی مہنگائی کا اثر بھی پالیسی ریٹ پر پڑے گا۔

پرافٹ کے تجزیہ  کے مطابق بڑھتی مہنگائی کا مطلب ہے کہ شرح سود نیگیٹو ٹیریٹری میں جائے گی۔ اب جبکہ مہنگائی پر قابو پانا حکومت کیلئے ایک چیلنج بن چکا ہے تو پالیسی ریٹ بڑھا کر آئی ایم ایف کو خوش کیا جا سکتا ہے۔

عدنان شیخ کے مطابق ’’ پالیسی ریٹ بڑھنے کے امکانات اس لیے زیادہ ہیں کیونکہ آئندہ مہینوں کے دوران بھی مہنگائی کی شرح برقرار رہنے کی توقع ہے۔‘‘

حتی کہ اگر پالیسی ریٹ میں اضافہ کچھ مدت کیلئے ٹلتا نظر آتا ہے تب بھی بڑھتی مہنگائی نے سٹیٹس کو کی پیشگوئی کو متاثر ضرور کیا ہے۔

مثال کے طور پر بی ایم اے کیپٹل (BMA Capital) نے گزشتہ مانیٹری پالیسی کے وقت 50 بیسز پوائنٹس کمی کی پیشگوئی کی تھی اور کہا تھا کہ پالیسی ریٹ 12.75 فیصد پر آ جائیگا، اس بار بھی بی ایم اے کیپٹل نے پیشگوئی کی ہے کہ پالیسی ریٹ 13.25 فیصد پر برقرار رہے گا۔

بی ایم اے کیپٹل کے شعبہ ریسرچ اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سعد ہاشمی کے مطابق بی ایم اے کیپٹل کا یہ موقف کھانے پینے کی اشیاء کے توقع کے برعکس مہنگا ہونی کی وجہ سے تھا، اگرچہ وہ پالیسی ریٹ بڑھانے سے متفق نہیں ہیں اور اسے مرکزی بینک کی ہدایات کے خلاف جانا قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے سٹیٹ بینک کسی قسم کی نرمی کی توقع رکھنا عبث ہے۔

2020ء کے آغاز میں بہت سارے معاشی تجزیہ کاروں نے کہا کہ جنوری کے آخر سے مارچ کے وسط تک کسی بھی وقت پالیسی ریٹ میں کمی ہو سکتی ہے، لیکن اب بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے یہ تاریخ جولائی یا ستمبر میں بدل گئی ہے۔

ای ایف اے سوسائٹی پاکستان نے سروے میں شامل 42 فیصد افراد نے کہا کہ جولائی میں پالیسی ریٹ میں کمی ہوگی جبکہ 21 فیصد کے مطابق ستمبر ایسا ہو گا، صرف 18 فیصد افراد کے مطابق پالیسی ریٹ میں کمی مئی میں ہو سکتی ہے، جبکہ صرف 8  فیصد کا خیال ہے کہ مارچ میں بھی ہو سکتی ہے۔

اضافی رپورٹنگ: اریبہ شاہد

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here